اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کا پیسہ دوسرے منصوبوں میں لگا دیا گیا ، بالاکوٹ شہر اور ڈیم نہ بنا تو میں ان لوگوں کےساتھ مل کراحتجاج کروں گا ، اس سردی میں لوگ ٹین کی چھتوں میں رہ رہے ہیں ، وزیر اعظم وہاں جا کر لوگوں کے حالات دیکھیں۔
زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈ میں بے قاعدگیوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نےکہا زلزلہ متاثرین کیلئےآنےوالا پیسہ امانت تھا ، جس میں خیانت کی گئی، وزیراعظم سے کہیں جا کر ان کے حالات دیکھ کر آئیں ، اگر میں 4 گھنٹے کے نوٹس پرجاسکتا ہوں تو وزیراعظم کیوں نہیں ۔ اٹارنی جنرل انورمنصور نےبتایا وزیراعظم کو شاید اس معاملےکا علم نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کمال ہے سب سے زیادہ محبت دینے والے صوبے کے مسائل کا وزیراعظم کو پتہ نہیں ، پھر کہتے ہیں جوڈیشل ایکٹیوزم کرتا ہوں، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ اپنی اتھارٹی دکھائیں ۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ گیارہ سال سے ایرا نے کچھ نہیں کیا ، سکول بنا ناں ہی کوئی گھر ، فنڈز کہا خرچ ہوئے؟ پیر کو چیئرمین این ڈی ایم اے خود پیش ہو کر وضاحت دیں، وفاقی حکومت دس دن میں رپورٹ پیش کرے کہ زلزلہ زدگان کے فنڈز سے کتنے پراجیکٹ مکمل کئے۔
Comments are closed.