اسلام آباد: قائد اعظم یونیورسٹی کی 450 ایکڑ اراضی پر قبضے کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم عمران خان سے فوری نوٹس لے کر قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
قائد اعظم یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے جامعہ کی اراضی پر قبضے کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاج کیا۔ جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ اور عہدیداروں نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 برس سے قبضہ مافیا کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ناں ہی جامعہ کی اراضی واگزار کرائی جا سکی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کو یونیورسٹی کی 1709 ایکڑ اراضی کی قیمت ادا کی جا چکی ہے لیکن اس میں سے 450 ایکڑ پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ جہاں پر منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ حکومتی عدم توجہی کے باعث 12 ہزار سے زائد طلبہ کا مستقبل قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر ہے۔ مظاہرین نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کی اراضی واگزار کرائیں۔
Comments are closed.