اسلام آباد:وزیراعظم کی زیر صدارت شوگر کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے فیصلہ کیاکہ سفارشات پر عملدرآمد کیلئے نو کمپرومائز پالیسی اپنائی جا ئے گی جبکہ شوگر فیکٹریوں کے فرانزک آڈٹ میں ثابت گھپلوں پر بھی کارروائی ہو گی ۔
وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیاکہ ایف بی آر کی تحقیقات میں 345 ارب روپے کے ٹیکس میں گھپلوں کا انکشاف ہوا تھا ، ٹیکس ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے والی فیکٹریوں کو 345 ارب روپے کے ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد سے حکومت کو سیلزٹیکس کی مد میں 80 فیصد سے زائد ریکوری کی گئی ہے ۔پہلے 16 ارب ٹیکس ملتا تھا جو اب 29 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دور حکومت میں ایف بی آر کے قانون میں غیر ضروری ترمیم کرتے ہوئے ایف بی آر کو سیلز ٹیکس کا ریکارڈ کسی سے شئیر نہ کرنے کا پابند بنایا گیا۔ایف بی آر کو حکومتوں سے بھی معلومات کے تبادلے سے روکا گیا۔وزیر ا عظم عمران خان نے 15 دونوں میں ترمیم واپس لینے کی ہدایت کی لیکن عملدر آمد نہ ہوسکا۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے چئیرمین ایف بی آر پر خفگی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ یہ کسی کے باپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، وہ دور گیا جب اشرافیہ کی معلومات عوام تک نہیں پہنچتی تھیں۔میری حکومت میں دوہرا معیار نہیں چلنے دوں گا، دکاندار کا ٹیکس ریکارڈ پتہ چل سکتا ہے تو شوگر مل مالکان کا کیوں نہیں؟ وزیر ا عظم نے کہاکہ چیئر مین ایف بی آر بتائیں 15 دن میں کام کیوں نہیں ہو سکا؟ وزیراعظم نے شوگر فیکٹریوں کے باہر کیمرے نہ لگانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ کون تاخیری حربے کر رہا ہے، بروقت کام مکمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا، عام دکاندار کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے
وہی بڑے شوگر مل مالکان کے ساتھ ہو گا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت تحریک انصاف پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ امیدواروں کی درخواستوں پر غورکیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ا عظم عمران خان نے کہاکہ سینیٹ کے ٹکٹ میرٹ پر دئیے جائیں گے ، پیسہ لگانے والوں کے بجائے اہل لوگوں کو ترجیح دی جائے گی ۔پارلیمانی بورڈ امیدواروں کو انٹرویوز کے بعد ٹکٹ جاری کرے گا۔
Comments are closed.