چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نےپاکستان بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے عہدیداروں کو خط لکھ دیا ۔ خط میں کہا گیاہے کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بار کونسلز خاموشی توڑ کر نئی روایت قائم کریں اور ایسے عناصرکا سخت احتساب کرکے عدلیہ کا وقار قائم کریں۔
پاکستان بار کونسل اور اسلام آباد بارکونسل کے وائس چیئرمین کو لکھے گئے 15 صفحات خط میں کہا گیاہے کہ چند وکلاء کے مس کنڈکٹ پر بار کونسل کو بطور چیف جسٹس غیر معمولی خط لکھ رہا ہوں،8فروری کو وکلاء کے ہجوم نے چیف جسٹس بلاک اور چیمبر پر دھاوا بولا۔12 بجکر 45منٹ پر سیکورٹی اسٹاف نے چیمبر اور چیف جسٹس بلاک کو خالی کرایا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ 1997 میں سپریم کورٹ پر ہوئے حملے سے زیادہ سنگین نوعیت کاتھا ،سپریم کورٹ پر حملے کےنتیجے میں کئی منتخب ارکان پارلیمنٹ کو سزا ہوئی اور نا اہل بھی ہوئے
خط میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مجھ سمیت کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں، چند شر پسند وکلا نے پوری بار کا سر شرم سے جھکا دیا،امید کرتا ہوں کہ ایسے وکلاء کے خلاف پاکستان اور اسلام آباد بار کونسلز کارروائی کرینگی۔پوری قوم بار کونسلز کی طرف دیکھ رہی ہے ۔
Comments are closed.