لاہور: سپریم کورٹ نے سرکاری اراضی کی لیز کا معاملہ چار سال تک التوا میں رکھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ ان سرکاری افسروں کا احتساب ہونا چاہئیے جو اس نقصان کے ذمہ دار ہیں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ چھوٹے بہت پکڑ لیے اب بڑوں کے خلاف کارروائی کر کے مثال قائم کرنی ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پیکجز انڈسٹری کو لیز پر دی جانے والی اراضی کے معاملے پر سماعت کی جس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ لیز 2015 میں ختم ہو چکی ہے اور 4 سال سے نئی لیز جاری نہیں کی گئی بلکہ سرکاری اراضی پیکجز کے ہی زیر استعمال ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ عدلیہ سرکاری پراپرٹی کی محافظ ہے چیف جسٹس نے باور کروایا کہ وہ زمانے گزر چکے جب شہر کا کوئی بڑا آدمی ڈپٹی کمشنر کو لیز کے لیے درخواست دیتا تھا اور اسے زمین مل جاتی تھی ، چیف جسٹس نے باور کروایا کہ ایل فی اے نے پٹرول پمپس بھی پندرہ پندرہ ہزار روپے پر لیز پر دئیے اب شفاف طریقے سے لیز ہوئی ہے تو یہ لیز کروڑوں پر گئی ہے۔
چیف جسٹس نے واضیح کیا اب جو بھی لیز ہو گی اسے دیتے وقت قانونی تقاضے اور شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ پیکجز کو 1957 میں 231 کینال اراضی تیس سال کے لیے لیز پر دی گئی جس میں 1985 میں دوبارہ توسیع کی گئی لیکن اب یہ لیز 2015 میں ختم ہو چکی ہے پیکجز کے وکیل نے بتایا کہ دوبارہ لیز کے لیے چار سال سے قبل درخواست دی تھی تاہم ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
چیف جسٹس نے باور کروایا کہ اگر لیز نہیں دی گئی تو اراضی سرنڈر کر دینی چاہئیے تھی چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ لیز کو التوا میں رکھنے کا معاملہ تو نیب کے قانون کی زد میں آتا ہے عدالت کا کام عوامی مفاد کا تحفظ کرنا ہے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے لیز کے معاملے پر ایف بی آر اور چار سال میں لیز کی درخواست پر فیصلہ کرنے والے تمام ڈپٹی کمشنرز کو طلب کر لیا
Comments are closed.