اسلام آباد: ملک کی مختلف تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے کئی سال تک آمدن کم ظاہر کر کے اربوں روپے کی ٹیکس چوری کیے جانے کا انکشاف ہواہے،،، فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی ان بلڈرز اور ڈویلپرز کی ٹیکس چوری پکڑنے میں ناکام رہا۔
تعمیراتی کمپنیاں 7 سال تک ایف بی آر کوماموں بناتی رہیں،،کمرشل پلازے،، رہائشی فلیٹس و دیگر منصوبوں کی کم آمدن ظاہر کر کے ٹیکس چوری سے ایف بی آر کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے تعمیراتی کمپنیوں سے متعلق آڈٹ اعتراضات میں اربوں کی بےضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، رپورٹ کےمطابق سال 2008 سے 2015 تک بلڈرز اورڈویلپرز اپنی غلط آمدن ظاہر کرتے رہے، ایف بی آر تعمیراتی کمپنیوں کی درست آمدن معلوم نہ کرسکی جس سے 16 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک صرف کراچی کی 19 تعمیراتی کمپنیوں سے 91 ارب روپے کا سرچارج نہیں لیا گیا
Comments are closed.