اسلام آباد: پاکستان اورفنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے درمیان مذکرات کا آغاز آج سے ہو رہا ہے، جس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے درمیان مذاکرات 8 جنوری سے 10 جنوری تک آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہوں گے۔جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کریں گے۔ پاکستانی حکام سے ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسفک گروپ سے مذکرات کرے گا۔ اینٹی منی لانڈرنگ کی خامیوں کو دور کرنے کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے ایکشن پلان پر تیزی سے عملدرآمد مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف دی گئی سفارشات پرعملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی ستائیس میں دس سفارشات پر بریفنگ دی جائے گی۔ پاکستانی وفد اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر بریفنگ دے گا۔ پاکستانی حکام کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام پر بریفنگ دیں گے۔ اینٹی منی لانڈرنگ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیوں کا جائزہ کیا جائے گا۔
وفاقی اور صوبائی ایجینسیوں کے درمیان ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔ لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کو ٹیرر فنانسنگ ایکٹویٹی کی مکمل تحقیقات کی تجویز پر عملدرآمد پر بریفنگ دی جائے گی۔ ٹیرر فنانسنگ میں ملوث عناصر پر کریمنل کیسز کے ذریعے پینلٹیز اور ملوث عناصر کی تمام اثاثہ جات مکمل ضبط کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔
دہشت گردوں کی جانب سے فنڈز جمع کرنے اور منتقلی سمیت ممنوعہ رسائی کی روک تھام کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔ وفد میں وزارت خزانہ، ایس ای سی پی، ایف آئی، ایف ایم یو، نیکٹا حکام شامل ہیں۔ پاکستان کو ستمبر 2019تک فیٹف کی 27 سفارشات پر عملدرآمد کرنا ہے۔
Comments are closed.