
متحدہ اپوزیشن کی دس جماعتوں پر مشتمل الائنس ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ،پیپلز پارٹی کے اسمبلیوں سے مستعفی ٰ نہ ہونے کے فیصلے کے بعد تقریباً غیر فعال ہو چکی ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین ہوں یا کارکنان ،سبھی اس وقت سیخ پاء ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ اپوزیشن کو دھوکا دیا ہے اور اس سے اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کو سینیٹ الیکشن میں اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور پھر فیصلہ کن مرحلے پر دغا دے گئے ۔ ان الزامات کا زمینی حقائق اور سیاسی تناظر میں جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس بات کا ا ندازہ ہو سکے کہ پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور کیا یہ درست ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کی پوزیشن بالکل مختلف ہے ؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پی ڈی ایم میں شامل کسی سیاسی جماعت کی اس وقت کسی صوبے میں حکومت نہیں اور اتحاد میں شامل چار سے پانچ جماعتیں تو ایسی ہیں جن کی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں ایک بھی نشست نہیں اورنہ ہی کسی صوبے میں قابل ذکر تعداد ہے ۔ ایسی جماعتیں جو پہلے ہی ایوان سے باہر ہیں ان کے فیصلے کو بنیاد بناکر مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز مطالبہ کر رہی ہیں پیپلز پارٹی قومی اسمبلی سے نہ صرف استعفیٰ دے بلکہ سندھ جو ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہے اس کی حکومت بھی چھوڑ دے ۔
پیپلزپارٹی پہلے دن سے ہی استعفوں کی مخالف رہی ہے اور ایوان کے اندر رہ کر حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کی حامی ہے ۔پی ڈی ایم تو سینیٹ اور ضمنی انتخابات کا بھی بائیکاٹ چاہتی تھی لیکن پیپلز پارٹی کی تجویز پر میدان میں آئے اور بھرپور نتائج حاصل کیے ، اگر مقتدر حلقے آخری وقت میں ہاتھ نہ دکھاتے تو پی ڈی ایم چئیرمین سینیٹ کا میدان بھی مار دیتی اور پھر شاہد استعفوں کی نوبت بھی نہ آتی اور حکومت کا بوریا بستر گول ہوجاتا۔
اب ا گر سینیٹ ا لیکشن کے بعد مایوس ہوکر پیپلز پارٹی تقریباً دو سال قبل ہی سندھ میں بھی استعفے دیکر اپنی حکومت ختم دیتی ہے تو پیپلز پارٹی کو حاصل کیا ہوگا؟حکومت کے علاوہ اس وقت پیپلزپارٹی ہی ملک کے سیاسی نظام کا فعال حصہ ہے اور اس کی وجہ صرف سندھ حکومت ہے ۔
تین سال کے دوران پیپلزپارٹی کو گزشتہ 30 سال بعد کراچی میں ایم کیو ایم کے کمزور ہونے اور تحریک انصاف کی غیر موثر کارکردگی سے ایک با ر پھر سیاسی میدان میں بھرپورجگہ ملی ہے ، کیا پیپلز پارٹی حکومت سے باہر آکر گورنر راج یا ضمنی انتخابات کی صورت میں یہ اسپیس واپس اپوزیشن کی جھولی میں ڈال دے ؟ کیا پیپلز پارٹی ملیر ایکسپریس وے سمیت درجنوں بڑے منصوبے ادھورے چھوڑ کر ا قتدار دوسروں کے حوالے کر کے سڑکوں پر آجائے ؟

این ایف سی ایوارڈ ہویا وفاق اور صوبوں کے درمیان جزائر کا ایشو، پیپلزپارٹی کوسند ھ حکومت کی وجہ سے ہی ہر جگہ وفاق کے سامنے کھڑنے ہونے جواز حاصل ہے ، بصورت دیگر وفاق کو من مانی سے روکنا ممکن نہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پر بھی وفاق اور اسٹیبلشمنٹ تلملا رہی ہے ۔
دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے ہر بار کہا کہ کوئی بھی فیصلہ اتحاد میں موجود اکثریتی رائے کی بنیاد پر ہوگا؟ جنگ کااصل محاذ پنجاب ہے اور پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے پاس قابل ذکر عوامی قوت نہیں۔ ایسے میں اگر 9 جماعتیں ایک طرف ہیں تو انہیں پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر لانگ مارچ بھی کرنا چاہیے اور اسمبلیوں سے استعفے بھی دینے چاہییں۔
اگر نون لیگ اور فضل الرحمان پیپلزپارٹی کی تائید سے حکومتی نظام لپیٹنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کا فائدہ بھی نون لیگ کو ہو گا، پاکستان پیپلزپارٹی کو نہیں۔ پی ڈی ایم جلسوں میں شرکت کے بعد پیپلزپارٹی کو بھی یہ اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ پنجاب میں انہیں خود ہی کنواں کھودنا اور پانی پینا ہے ۔
تیسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ اگر سی ای سی اجلاس کے بعد بھی پیپلزپارٹی کا فیصلہ برقرار رہتا ہے جس کا قوی امکان تو پھر پی ڈی ایم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پیپلزپارٹی کیساتھ ساتھ چلے گی یا پھر فوری طورپر اسمبلیوں سے مستعفی ٰ ہو کر باہر آ جائے گی ۔
اگر پی ڈی ایم اسمبلیوں سے باہر آتی ہے تو ضمنی انتخابات ہوں گے اور ایسے میں ظاہر ہے پی ڈی ایم کی کوئی جماعت اس میں تو حصہ نہیں لے گی ، یوں پنجاب ہو یا خیبر پختونخواہ مقابلہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہی ہوگا، چاہیے پیپلز پارٹی موجودہ صورت حال میں ایک بھی نشست نہ جیت سکے اور ہر حلقے میں 10 سے 15 ہزار ووٹ ہی ملیں،لیکن پیپلز پارٹی الیکشن سے دو سال پہلے یہ پتا چل جائے گا کہ وہ کس پانی میں ہے ؟ اور پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں آئندہ عام انتخابات میں قابل ذکر کارکردگی کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا؟ یوں پیپلز پارٹی کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ اسےعام انتخابات سے پہلے پنجاب میں ایک بھرپور الیکشن ریہرسل میسر آئے گی ،اس لیے پیپلزپارٹی فوری طور پر ملک میں عام انتخابات نہیں جانا چاہتی ۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی بار بار رائیونڈ یاترا اور مریم نواز سمیت لیگی قیادت سے ملاقاتوں پر بھی پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت کو سخت تحفظات تھے ۔ لاہور میں مریم نواز سے بلاول بھٹو کی ایک ملاقات کے بعد پنجاب سے پیپلزپارٹی کے ایک رکن صوبائی اسمبلی جو بلاول بھٹو کی گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے ،ان سے بلاول بھٹو نے پنجاب کی سیاسی صورتحال پوچھی ،تو انہوں نے کہاکہ قیادت فیصلے پہلے کرتی ہے اور پیپلزپارٹی پنجاب سے پوچھتی بعد میں ہے ؟ پنجاب کے کارکنان پیپلزپارٹی کی نون لیگ کیساتھ قربتوں سے مزید بد دل ہو رہے ہیں اور اس کا فائدے کے بجائے صرف نقصان ہی ہورہاہے ۔ گاڑی میں قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے جنھوں نے ان کے موقف کی تائید کی ۔ بلاول بھٹو نے اس کو سنجیدہ لیا اور اس پر زرداری ہاوس اسلام آباد میں اہم اجلاس ہوا جس میں اعتزاز احسن نے بھی شرکت کی اور کھل کر باتیں ہوئیں۔
اب پیپلزپارٹی کی بات نہ سننے میں نقصان صرف پی ڈی ایم کا ہوگا پیپلزپارٹی کا نہیں۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی دونوں مل کر اب بھی اس صورتحال کو سنبھال سکتی ہیں ۔ پی ڈی ایم کی تمام سیاسی جماعتیں بھرپور لانگ مارچ کا علان کریں اور کہا جائے کہ ا ستعفوں کا آپشن اسلام آباد پہنچ کر استعمال کیا جائے گا ، تمام پارٹی سربراہان استعفے ساتھ لیکر آئیں گے ۔ مارچ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے تمام جماعتیں پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی سے مستعفی ٰ ہوں، اگر نتائج مثبت آتے ہیں اور حکومت دباو کا شکار ہوجاتی ہے تو مزید دباو کے لیے پنجاب سے بھی استعفے دے دئیے جائیں کیوں یہاں پی ڈی ایم میں شامل کسی جماعت کی حکومت نہیں اور آخری مرحلے میں جب پی ٖڈی ایم کو یہ یقین ہوجائے کہ اب مڈ ٹرم الیکشن یقینی ہیں تو تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جائے ،پیپلزپارٹی سندھ حکومت بھی چھوڑ دے اور ملک میں نئے انتخابات کرا دئیے جائیں، اسی صورت میں پی ڈی ایم کی عزت بھی بچ سکتی ہے اور حتمی مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے بصورت دیگرمزید تین سال عمران خان کی حکومت کو بھگتنا ہوگا۔
Comments are closed.