اسلام آباد: وفاق اور سندھ حکومت کی سیاسی لڑائی عوامی مفاد کے معاملات پر بھی اثرانداز ہونا شروع ہوگئی ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک نصاب کی تیاری کے لئے قومی نصاب کونسل کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہوا مگر اہم اجلاس میں یقین دہانیوں کے باوجود سندھ کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے انتخابی وعدہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے تمام صوبوں میں یکساں نصاب تعلیم لاکر ملک اور معاشرے سے ناانصافیوں کا خاتمہ کیا جائے ۔ وفاقی وزیرتعلیم شققت محمود نے اانتخابی وعدہ ایک بار پھر دہرا دیا۔
حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ماضی کی حکومتوں پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ سابقہ حکومتوں نے تعلیم کو نظرانداز کیا۔ تحریک انصاف حکومت غریب اور متوسط طبقے سے تعلیمی ناانصافیاں ختم کرنے کا وعدہ پورا کرے گی۔
قومی تعلیمی نصاب پر پہلے اجلاس کےشرکا نےحکومت کو تعلیمی انقلاب کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے تعلیمی میدان میں یکساں نصاب تعلیم کے دعوے تو کئے جا رہے ہیں پر اب دیکھنا یہ ہےکہ کیا یہ وعدے اور دعوے پورے ہو سکے گے کہ نہیں۔
Comments are closed.