فیس واپسی کے عدالتی فیصلے کی تضحیک برداشت نہیں کریں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایک ماہ کی فیس واپسی سے پرائیویٹ اسکول بند ہوتے ہیں تو بند کر دیں، سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق پورےملک پرہوگا۔قانون و انصاف کمیشن اساتذہ کی برطرفی اورسہولیات میں کمی کی رپورٹ جمع کروائیں۔عدالتی فیصلے کی تضحیک برداشت نہیں کریں گے۔

نجی اسکولوں کی اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر زعفران الہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ آپ نے ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا کہا، اس سے سکول بند ہوجائیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ فیس واپسی سے اسکول بند ہوتے ہیں تو بند کر دیں، سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔

سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایاکہ کچھ سکول کہہ رہے ہیں 5 ہزار تک فیس کم نہیں کریں گے، ایک اسکول نےکہا قرآن پاک نہیں پڑھائیں گے1ہزارروپے فیس کم کردیں گے۔ ایک ڈائریکٹر کی سالانہ تنخواہ 12 کروڑ 30 لاکھ ہے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بڑے بڑے لوگ اپنی بیگمات کو سکول کھول کر دیتے ہیں، قانون و انصاف کمیشن اساتذہ کی برطرفی اور سہولیات میں کمی کی رپورٹ جمع کر وائیں۔۔ عدالتی فیصلے کی تضحیک برداشت نہیں کریں گے۔

عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہاکہ پرائیویٹ سکول خود کو ریگولیٹ کرانا ہی نہیں چاہتے،کہتے ہیں عدالت اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔نجی اسکول کے وکیل زاہد حامد نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کا تعلیم پرکنٹرول ختم ہوگیا ہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ سندھ میں ایک ایک کمرے کا سکول بناہے۔ وڈیرے کے گھر کے سامنے کمرہ بنا دیا جاتا ہے، وڈیرہ اس میں اپنے ملازم کو ٹیچر لگوا دیتا ہے، وہ سارا دن وہاں بیٹھ کر وڈیرے کے پاؤں دباتا رہتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت تعلیمی اداروں کی کمی کو پورا نہیں کر پائی۔پرائیویٹ اسکولوں نے ہی سرکاری سکولوں کو فیل کیا۔۔ پرائیویٹ سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیئے مضبوط ریگولیٹر چاہیے،حتمی سماعت کے بعد عملدرآمد بینچ بنا دیں گے۔عدالت نے کیس کی مزیدسماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.