کراچی: حکومتی سخت اقدامات نے معاشی ترقی شرح کو کم کردیا، ورلڈ بینک کے مطابق لاکھوں بچوں کو اسکول میسر نہیں جبکہ غذائی قلت کے باعث بچوں کی نشو نما متاثر ہورہی ہے۔
رواں مالی سال پاکستان میں معاشی ترقی کی شرح 3 اعشاریہ 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ گذشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 5 اعشاریہ 8 فیصد رہی تھی، ورلڈ بینک کے مطابق معاشی ترقی کی شرح میں کمی کی بڑی وجہ حکومتی سخت اقدامات ہیں، جس میں اخراجات میں کمی اور شرح سود میں اضافہ بھی شامل ہے،عالمی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئند برسوں میں پاکستان میں ترقی کی رفتار بڑھ کر 4 اعشاریہ 6 فیصد تک پہنچ جانے کا امکان ہے، پاکستان میں ٹیکس دائرہ وسیع نہیں ہے ،، اخراجات کم کرنے کے باوجود مالیاتی خسارہ زیادہ ہی رہے گا۔
ورلڈ بینک کے مطابق ہیومن کیپٹل انڈیکس میں شامل 157 ممالک میں پاکستان کا درجہ 134 واں ہے،، روپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت پر کم خرچ کرتی ہے،لاکھوں بچوں کو اسکول میسر نہیں جبکہ غذائی قلت کے باعث بچوں کی نشو نما متاثر ہورہی ہے۔
Comments are closed.