بارسلونا ٹیکسی سیکٹر میں پاکستانی تاثر

تحریر: ڈاکٹر انعام حسین بارسلونا

لنگرگپ
سر راہے بادالونا کی کائیے چیلے سے ایک واکس ویگن کادی کا گزر ہوا جس پر کالا پیلا رنگ تھا اور چھت پر ٹیکسی آویزاں تھا. اندر ایک خوش لباس، نفیس انداز، نک ٹائی لگائے صاف ستھری اور استری شدہ ڈریس شرٹ و کاٹن ٹروازر میں ملبوس، دیدہ زیب جوتے پہنے، عمدہ پرفیوم کی مہک میں ایک خوش اخلاق نوجوان ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان تھااس نوجوان کا نام ہے راجہ محمّد رمیض۔یہ کوئی بنائی ہوئی کہانی نہیں بلکہ یہ سچا واقعہ ہے جس کے گواہ میرے ایک اور عزیز دوست سیف چودھری بھی ہیں جو موقع پر موجود تھے۔

راجہ صاحب ہمیں دیکھ کر رک گئے اور ہم کچھ دیر کے لئے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے. بندہ خاک بسر نے نوجوان راجہ رمیض کی تعریف کی اور ان سے استفسار کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ کسی ڈیٹ ویٹ پر جا رہے ہوں اس لئے اتنی کٹ میں ہیں. لیکن راجہ صاحب مسکرائے اور جواب میں فرمایا کہ وہ روز اسی انداز میں تیار ہو کر اپنے کام پر جاتے ہیں. ان کی حوصلہ افزائی کی اور مختصر ملاقات کے بعد ہم اپنے اپنے راستہ ہو لئے۔منہ دیکھے کی بات نہیں صاحبان؛

میری ملاقات کام کے دوران یا کام کے خاتمہ پر فیاض ملک سے بھی ہوتی رہتی ہے. ان کو ہمیشہ صاف ستھرا اور خوش پوشاک پایا. اسی طرح سید شیراز، طاہر فاروق وڑائچ، سید آصف حسین ترمزی، رندھ ہنزلہ بلال، ملک فیصل مشتاق اعوان، چودھری شہباز مچھیانہ، محمّد اعجاز، چودھری محمّد ایاز، چودھری شہزاد اکبر وڑائچ، سفیان یونس، چودھری عاصم گوندل، محمّد مہر فاروق اور میرے دیگر بہت سے دوست ٹیکسی لائن سے وابستہ ہیں یا رہ چکے ہیں. (اگر کسی کا نام نہیں لکھ سکا تو دست بستہ معذرت، بندہ ہوں، یاداشت کمزور ہے). بندہ خاک بسر نے ان میں سے بھی کبھی کسی کو میلے کپڑوں میں یا میلی گاڑی چلاتے نہیں دیکھا۔

وہ تمام اشخاص جو کسی نہ کسی طرح تعلقات عامہ (پبلک ڈیلنگ) میں رہ چکے ہیں اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آپ کا صاف ستھرا ہونا، آپ کا نفیس لباس، آپ کا انداز گفتگو اس بات کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ گاہک آپ کے ساتھ کس انداز میں مخاطب ہوں. جی ہاں، غیر معمولی حالات کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے لیکن روزمرّہ کے اکثریت حالات میں اگر آپ جاذب النظر ہیں تو لوگ آپ سے بات بھی تمیز سے کرتے ہیں اور آپ کی بات بھی مانتے ہیں لیکن اس کے برعکس غلیظ لباس اور غیر معیاری گفتگو (یا رویہ) رکھنے سے گاہک بھی چڑھ کر بولتے ہیں اور آپ کو کوئی خاص وقعت بھی نہیں دیتے

ٹیکسی سیکٹر میں شائد تربیت کا حصہ ہے یا اسکو انفرادی کوشش کہیں، لیکن پاکستانیوں کا ٹیکسی سیکٹر میں عموماً تاثر اچھا ہے جس کی بنیادی وجہ خود وہ اصحاب ہیں جو ٹیکسی سیکٹر سے جڑے ہوئے ہیں. دیگر سیکٹرز جن میں پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے وہاں شائد لائسنس کے حصول کے لئے تربیت لازمی نہیں ہے اس لئے ان سیکٹرز میں اکثر لوگ ایسے ہی موجود ہیں جن کو پبلک ڈیلنگ کے بنیادی اصولوں سے ہی واقفیت نہیں. لیکن پریشانی کی بات نہیں، تربیت کے مواقع اس ملک میں موجود ہیں. تربیت حاصل کر لینے اور پھر اس تربیت کا عملی مظاہرہ کرنے سے آپ بھی اپنے اپنے سیکٹرز میں اپنے گاہکوں سے وہ عزت اور تعریف حاصل کر سکتے ہیں جس کے آپ مستحق ہیں.

نوٹ: اس آرٹیکل کا مقصد ٹیکسی سیکٹر سے امتیازی سلوک برتنا ہرگز نہیں بلکہ باقی سیکٹرز میں ایک عمدہ کام کی تقلید کروانا مقصود ہے.

Comments are closed.