اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر گرما گرمی،،، نجی بل مسترد کئے جانے پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج، اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس دس منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ چیئر کی جانب سے وقت کی پابندی نہ کرنا افسوسناک ہے۔ احساس ہی نہیں کہ وقت کتنا قیمتی ہے۔ کم از کم ڈپٹی اسپیکر کو وقت پر آنا چاہئے تھا۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری نے جواب دیتے ہوئے اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کا ذمہ دار بھی گزشتہ حکومت کو قرار دے دیا۔ اور کہا کہ اصولی طور پر خورشید شاہ درست کہہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اجلاس تاخیر سے شروع کرنے کی پریکٹس گزشتہ دور سے ہے مگر یہ روایت ختم ہونی چاہئے۔ مگر یہ کہنا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے بالکل غلط ہے۔
اس بیان پر اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا۔ اپوزیشن کے احتجاج پر ڈپٹی اسپیکر نے خورشید شاہ کو مائیک دیا تو خورشید شاہ نے کہا کہ ماضی میں کیا ہوا اس کو آج جواز بنانا زیادتی ہے۔ ماضی کی غلطی کو آج ٹھیک کریں۔ ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں۔ سابقہ اسپیکر ایاز صادق بروقت اپنی چیئر پر ہوتے تھے۔
خورشید شاہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ارکان نہیں بلکہ چیئر سے کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ یہ تنقید تو نہیں کی کہ کوئی بھی وزیر ایوان میں موجود نہیں ۔ ساری نشستیں خالی ہیں۔ نجی کارروائی کا دن ہونے کے باعث تحریک انصاف کی ایم این اے منورہ بی بی نے تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کی صحت کے تحفظ کا ترمیمی بل پیش کرنے کی کوشش کی مگر حکومت کی مخالفت نے ایوان نے تحریک کی مخالفت کردی۔
اسی دوران ایم ایم اے کی عالیہ کامران نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے اور صوبائی کوٹہ یقینی بنانے کا بل پیش کیا۔ حکومت کی جانب سے مخالفت کئے جانے پر عالیہ کامران نے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ گنتی کرائی گئی تو تحریک کی مخالفت میں چھیانوے اور حمایت میں چورانوے ووٹ آئے۔ ڈپٹی اسپیکر نے دو ووٹ زیادہ ہونے پر تحریک مسترد ہونے کی رولنگ دے دی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گنتی میں دھاندلی ہوئی ہے۔ دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دوبارہ گنتی نہ کرانے پر اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا اور شور شرابہ کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی دس منٹ کے لیے ملتوی کردی۔ عالیہ کامران کے بل پر اپوزیشن کی شکست میں ن لیگ کے چار ارکان کا کردار تھا۔ مسلم لیگ ن کی مریم اورنگزیب، نثار چیمہ سمیت چار ایم این ایز گنتی کے وقت اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے اور بل کی حمایت نہی کی۔ ن لیگ کے چار ارکان کے ووٹ نہ دینے پر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نے مسلم لیگ نے کے رہنما برجیس طاہر سے شکایت بھی کی۔
Comments are closed.