وزیرامورکشمیر کا مظفرآباد میں لڑکی پر تشدد کانوٹس، رپورٹ طلب

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے مظفر آباد میں احتجاج کرنے والی لڑکی پرتشدد اورگرفتاری کے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیاہے۔ اورچیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ اپنے حق کیلئے پرامن انداز میں آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اپنےحق کیلئے آوازاٹھانے والی لڑکی کواہلخانہ سمیت تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔

علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ صاحبانِ اختیار کو شہریوں پر بلا جواز تشدد کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، چیف سیکرٹری اورآئی جی واقعے کے ذمہ داران کا تعین کریں۔ حد سے تجاوز کرنے والے حکام کیخلاف سخت انضباطی کارروائی کریں گے۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے ضلع پلندری کی رہائشی سحرش نے پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں ٹاپ کیا، لیکن میرٹ کو نظرانداز کر کے انہیں ملازمت سے محروم کر دیا گیا، جس پر سحرش نے اپنے والد کے ہمراہ وزیراعظم سیکرٹریٹ مظفرآباد کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

Comments are closed.