پاکستان کی مقبوضہ وادی میں کشمیری نوجوان کے دوران حراست قتل کی مذمت

پاکستان نے بھارت کے غیرقانونی زیرتسط جموں و کشمیر میں غیرقانونی حراست کے دوران بھارتی فوج کے بہیمانہ تشدد سے کشمیری نوجوان کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان محمد امین ملک کو غاصب بھارتی فوج نے غیرقانونی حراست کے دوران بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، پاکستان کشمیری نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فوج جنوری 2021 سے اب تک 50 کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کر چکی ہے، ان کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد سیکورٹی آپریشنز کی آڑمیں گولیاں ماری گئیں، غاصب فورسز نوجوانوں اور بچوں کو دن دہاڑے بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ غیرقانونی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات بھی جاری ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت شہید کشمیریوں کی میتیں تدفین کے لیے ورثا کےحوالے نہیں کرتا،شہدا کےجسد خاکی دینےسے انکاربھارت کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے، بھارت کی جانب سے معصوم شہریوں پرطاقت کا استعمال اوربربریت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور نہیں کرسکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر مودی سرکار کا احتساب کرے، اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی امنگوں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کے پرامن حل کیلئے کوششیں کی جائیں۔

Comments are closed.