ساہیوال / لاہور: ساہیوال کے علاقے قادرآباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں خاتون اور بچی سمیت 4 افراد کے قتل میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ جبکہ جاں بحق افراد کے ورثا کا لاہور میں دھرنا اور احتجاج جاری ہے۔
ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین نے رات بھر دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا جس کے بعد تھانہ یوسف والا پولیس نے مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی کے سولہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا مقتول خلیل کے بھائی کی مدعیت میں درج مقدمہ نمبر 33/19 میں دہشت گردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔جب کہ واقعہ میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گزشتہ روز ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
جاں بحق افراد کے لواحقین نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر چاروں لاشیں رکھ کر گزشتہ شام سے لے کر آج صبح تک شدید احتجاج کرتے ہوئے لاشیں رکھ کر دھرنا دیا۔ ورثاء نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور شدید احتجاج کیا۔ ایف آئی آر کے اندارج کے بعد ساہیوال میں دھرنا ختم کردیا گیا اور لاشوں کو لاہور پہنچادیا گیا ہے۔
گزشتہ شب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں تسلیاں تو دی تھیں تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس کے باعث ورثاء مطمئن نہیں ہوئے تھے۔
ادھر لاہور میں بھی مظاہرین نے چونگی امر سدھو کے مقام پر فیروز پور روڈ کو دونوں طرف سے بند کردیا جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند ہوگئی۔
مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے کہا کہ انصاف ملنے تک لاشوں کی تدفین نہیں ہوگی۔ ہماری ایف آئی آر متعلقہ تھانہ میں دینے کی بجائے لاہور میں درج کروانے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے ہماری ایف آئی آر کاٹنے کی بجائے مرنے والوں پر ہی مقدمہ درج کردیا۔ واضح رہے کہ تھانہ سی ٹی ڈی لاہور میں واقعے میں جاں بحق افراد پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
Comments are closed.