قصہ اک دستبرداری کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب عبد الرشید ترابی سے ایک زمانہ واقف ہے۔انہوں نے اپنی جوانی،اپنا مستقبل ،دن رات ۔سکھ چین ،سرد و گرم سب کچھ اعلائے کلمتہ اللہ اور تحریک ازادی کشمیر کی کامیابی کیلئے قربان کیا۔اپنے گھر بار اور بچوں کی تعلیم و تربیت سے بیگانہ ترابی صاحب لاکھوں دلوں میں گھر کرچکے ہیں۔سنجیدہ فکر،کم گو ،ملنسار اور دست شفقت رکھنے والے ترابی صاحب سے شناسائی 1990ء سے ہے۔جو بے لوث،بے غرض ،بغیر کسی لالچ اور طمع کے ہے۔انہوں نے تحریک ازادی کے رہنماوں اور مجاہدین کے ساتھ اپنا قیمتی وقت صرف کیا۔میں نے انہیں جہاں شہید غلام رسول ڈار اور شہید شمس الحق کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کرتے دیکھا تو وہیں مسلح جدوجہد کے بانی اور سرخیل محمد اشرف ڈار کی شہادت پر انتہائی رنجیدہ اور بے چین و بیقرار بھی دیکھا ہے۔ شہدا کے بچوں کی مدد و اعانت اور ان کے سروں پر دست شفقت رکھنا ترابی صاحب کا ایسا وصف ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز حیثیت عطا کرتا ہے۔وہ غریب پرور ضرور ہیں مگر خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کر کے مصداق ان کی دیانت و امانت کی گواہی دیار غیر سے دی جارہی ہے۔ترابی صاحب نے جماعت اسلامی کو پورے ازاد کشمیر میں اپنی بھرپور کوششوں سے متعارف کرایا ہے۔جماعت اسلامی نے بھی انہیں پلکوں پر بیٹھایا۔وہ بار بار امیر جماعت کے منصب پر براجمان ہوتے رہے۔1996 ء میں ازاد کشمیر الیکشن میں اہل باغ نے انہیں منتخب کیا تو انہوں نے بھی اپنے منتخب کرنے والوں کو مایوس نہیں کیا۔2001 اور 2002 ء میں پھر ایکبار انہیں اہل باغ نے اپنی پلکوں پر بیٹھانا چاہا،رات تک ترابی صاحب 10000 کی لیڈ سے جیت رہے تھے تو دوسرے دن مرحوم کرنل نسیم جو کہ ترابی صاحب سے ووٹوں کی گنتی میں کوسوں دور تھے کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جس سے اپنے تو اپنے پرائے بھی بہ آسانی ہضم نہیں کرسکے اور وہ کامیابی کا اعلان مرحوم کرنل صاحب کا پیچھا آخری دم تک کرتا رہا۔اس ناانصافی کا اعتراف اس وقت کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کو سردار اعجاز افضل خان کی موجودگی میں ایک ٹی وی پروگرام جس میں ازاد کشمیر یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو مدعو کیا گیا تھا میں کرنا پڑا۔گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کی حمایت کے نتیجے میں ترابی صاحب کا ٹینکو کریٹ کی نشت پر قانون ساز اسمبلی کا ممبر کی حیثیت سے انتخاب عمل میں لایا گیا۔اب کی بار جماعت اسلامی ازاد کشمیر نے جماعت کے کارکنوں،ہمدردوں اور جماعت کے ساتھ نظریاتی تعلق رکھنے والوں کی خواہشات کے عین مطابق تنہا انتخابات میں شرکت کا فیصلہ اور اعلان کیا،جس کے پیش نظر جماعت نے 31 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ترابی صاحب کا حلقہ انتخاب وسطی باغ ہے جہاں ان کی اپنی برادری کا بھی اچھا خاصا ووٹ بینک ہے۔ترابی صاحب نہ صرف بھرپور انتخابی مہم میں پیش پیش تھے بلکہ وہ ازاد کشمیر جماعت کے تمام امیدواروں کی انتخابی مہم کے سربراہ اور وہ ان تمام امیدواروں کیلئے امید کی ایک کرن تھے۔ 21 جوالائی جب عید الاضحی کا پہلا دن تھا ترابی صاحب کی ایک تصویر سوشل میڈیا کی زینت بن گئی ۔جس کے کیپشن میں درج تھا کہ سابق امیر جماعت اسلامی ازاد کشمیر PTI کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں۔یہ خبر نہ صرف جماعت اسلامی ازاد کشمیر بلکہ جماعت اسلامی پاکستان کیلئے ایک قیامت سے کم نہیں تھی۔سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوا۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے ترابی صاحب کا نام لیکر ان کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔جناب لیاقت بلوچ نے ترابی صاحب کے فیصلے پر ایک نوحہ تحریر فرما کر جمیعت سے لیکر امیر جماعت اور مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہ کر ان کے ساتھ گزرے اپنے مہ و سال کو بیان کیا۔کہ ترابی صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ ان کی ذات ان رنگینیوں سے ماورا ہے۔تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر نے ترابی صاحب پر تنقید کرنے والوں کو جہاں آینہ دکھایا ہے وہیں ترابی صاحب کی دیانت و امانت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ دورہ برطانیہ کے دوران لوگ جب ترابی صاحب کو محض اپنی ذات کیلئے کچھ پیسے دیتے ہیں تو ترابی صاحب واپسی پر ان پیسوں کو جماعت کے بیت المال میں جمع اور ان کی رسیدیں دوستوں کو ارسال کرتے تھے جس پر وہ شدید ناراضگی کا اظہار کرتے تھے کہ انہوں نے اگر کچھ دیا ہے تو صرف ترابی صاحب کی ذات کو دیا ہے جماعت کو نہیں۔یہ تمام گواہیاں اپنی جگہ،میں جس ترابی صاحب کو جانتا ہوں 21 جولائی کا دستبرداری کا فیصلہ آسانی سے ہضم نہیں ہوپارہا ہے۔ترابی صاحب نہ حنیف عباسی ہیں اور نہ ہی فیاض الحسن چوہان۔مشرق سے لیکر مغرب تک ان کی ایک شناخت اور پہچان ہے۔ان کا فیصلہ قرب قیامت ہے۔اس فیصلے اور اقدام کی کوئی ترجیحات بھی پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔ترابی صاحب کھڑے رہتے اور فرض کرتے ہیں کہ ان کے حلقے میں ڈالے جانے والے ووٹوں میں سے کوئی ایک ووٹ بھی ان کے حق میں نہ پڑتا ۔واللہ ثمہ واللہ ان کی عزت و احترام میں مزید اضافہ ہونا تھا۔نہ جانے میرا وجدان کیوں یہ بات قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کہ ترابی صاحب کا فیصلہ کوئی صائب اور درست فیصلہ نہیں ہے بلکہ ان سے غلطی اور سہو سرزد ہوگیا ہے۔جس کی تلاقی صرف اور صرف سجدہ سہو ہے۔یہ سجدہ سہو جتنا جلدی کرلیا جائے اتنا ہی بہتر اور دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔شنید ہے کہ ترابی صاحب 26 جولائی یعنی انتخابات کے دوسرے دن ایک پریس کانفرنس کرنے جارہے ہیں۔میری آرزو اور دعا ہے کہ کم گو ترابی صاحب کم گوئی تک ہی محدود رہیں اور ان کے اعصاب ترابی صاحب کے ہی کنٹرول میں رہیں۔جو لوگ ترابی صاحب پر تنقید یا بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہیں وہ ترابی صاحب کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے بلکہ خود کو ننگا کرتے ہیں۔شائستگی ،رواداری اور بردباری ہی ایک انسان کو اعلی اخلاق پر فائز کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ترابی صاحب کے فیصلے کے ساتھ اختلاف تو کیا جاسکتا ہے اور اختلاف رائے حسن ہے۔جیسا کہ خود لیل و نہار میں ہے ۔دن ہے تو رات بھی ہے۔لیکن اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ آخر جماعت سے اتنی کیا خطا ہوئی ہے کہ ترابی صاحب جیسے الوالعزم بھی حوادث کے شکار ہوچکے ہیں۔ جماعت کو خود بھی ٹٹولنے کی ضرورت ہے اور یہ ناگزیر امر بھی ہے۔ترابی صاحب کا اخراج اور بنیادی رکنیت کی معطلی بذات خود ایک قیامت اور آسمان زمین پر آنے کے مترادف ہے۔جس پر جماعت کی قیادت کو سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت اور اس حادثے کو یونہی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔پالسیاں از سر نو مرتب اور تشکیل دی جائیں تاکہ جماعت کے اکابرین اور کارکنوں میں پھیلی مایوسی اور ناامیدی کو ختم اور دور کیا جاسکے۔کیونکہ جو لوگ اور تنظیمیں اللہ کے نظام کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کرتی ہوں مایوسی ان کیلئے زہر قاتل ہے۔کامل پانچ برس تک حکومت ازاد کشمیر میں مزے لوٹنے والے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی کی لوٹ سیل جاری اور ایک منڈی لگی ہوئی تھی۔بلکہ ایک گدی نشین نے تو قرآن کی روشنی میں وفادرای بدلنے اور بدعہدی کو اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیا لیکن پھر خود بھی وہ شرعی حیثیت کی وضاحت سمیت PTI کو پیارے ہوگئے،لیکن نہ چائے کی پیالی میں طوفان برپا ہوا اور نہ ہی کسی باالخصوص معاشرے کی آنکھ کہلانے والے صحافیوں کی رگ حمیت پھڑک اٹھی البتہ ترابی صاحب کی دستبرداری کی خطا سے انہی صحافی نما حق و باطل کے سرخیلوں کے منہ سے رال ٹپکنے لگی اور یوں انہوں نے نہ صرف خود کو الف ننگا کیا بلکہ اپنے خاندانی پس منظر کا ٹھیک ٹھاک تعارف بھی کرایا کہ وہ کس خاندانی پس منظر کے مالک ہیں۔اس سے آسان الفاظ میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حب حسین نہیں بلکہ بغض ماویہ ہے۔ ترابی صاحب کے فیصلے پر تنقید سے یہ۔ثابت ہوا ہے کہ جماعت اسلامی ایک سفید کپڑے کی مانند ہے جس پر چھوٹا سے چھوٹا داغ بھی دور سے نظر آتا ہے۔ جماعت اسلامی اور اس کے ساتھ وابستہ افراد فرشتے نہیں بلکہ بشر ہیں۔مگر وہ ہمشہ ریڈار کی نظروں میں ہیں۔باقی جماعتیں کیچڑ اور گندگی میں لوتھڑی ہوں کسی کو جنبش تک نہیں ہوتی۔میری دعا اور خواہش ہے کہ ترابی صاحب کو اپنے فیصلے اور اقدام کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔اسی میں خود ترابی صاحب اور پوری جماعت کی عزت و احترام کا رشتہ محفوظ اور تاصبح قیامت اس رشتے میں چاشنی برقرار رہے گی۔ترابی صاحب کا جماعت سے اخراج اس گئے گزرے دور میں بھی روشنی کی ایک کرن ہے کہ جماعت میں کتنا ہی بڑا مرتبے کا حامل فرد کیوں نہ ہو غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس شر میں سے خیر کا پہلو نکالیں۔قصہ اک دستبرداری کا۔
Comments are closed.