تجارتی خسارہ قابو کیے بغیر ملکی معاملات حل نہیں ہوسکتے، وزیر خزانہ

لاہور: وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہاہےکہ تجارتی خسارہ قابو میں لائے بغیر ملک کے باقی معاملات حل نہیں ہو سکتے۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے لاہورمیں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس انڈسٹری میں تاجروں سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نظام کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، بجلی پیدا کرنے کے لیے آزادی ہونی چاہیے، بجلی کہ تقسیم کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں میں آڈٹ کا نظام ضروری ہے، ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا طریقہ آسان کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، ٹیکس ریٹرن آسان بنانے کے لیے کام کررہے ہیں، آسان ٹیکس فارم اسکیم پورے پاکسستان میں لاگو ہوگی، 2019 کی ٹیکس ریٹرن کو آسان بنایا جائے گا اور فروری میں ٹاپ ٹیکس ریٹرنز کو تقریب میں سراہا جائے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ جب تک تجارتی خسارہ قابو میں نہیں لاتے، اس وقت تک باقی معاملات حل نہیں ہوں گے، ہمیں ماحول بدلنے کی ضرورت ہے، اربوں روپے کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ہم اب دیوار کے پیچھے چھپ نہیں سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک میں اسپیشل اکنامک زونز کا بنیادی کردار ہے اور اکنامک زونز بزنس مین کو چلانے چاہئیں، حکومت کا کام سہولت دینا ہے اصل کام تاجر برادری نے کرنا ہے۔

Comments are closed.