اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل مسترد کر دی ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قاری سلام کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ قاری صاحب کو تو براہ راست بچیوں نے نہیں بتایا ہوگا، پھر ان کو کیسے پتا چلا کہ یہ الفاظ کہے گئے، کیا اسلام کی یہ تصویر پیش کر رہے ہیں؟ اس طرح کے گواہ ہوتے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ سب گواہان کے بیانات میں واضح تضادات ہیں، عدالتی فیصلہ خلاف آنے پر سارا پاکستان بلاک کردیتے ہیں کہ ہماری بات کیوں نہیں مانی گئی، الزام لگاتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ بری کردیا۔اپنے گریبان میں بھی تو جھانکیں کیس کیا بنایا ہے۔
مقدمے کی حساسیت کا خیال کیا، ورنہ جھوٹی گواہی پر گواہوں کو اندر کرتے، اگر عدالت نے انصاف کردیا تو واجب القتل ہوگئے؟
یہ ہے اسلام،،، جو قاضی کہے کہ یہ شہادت قابل اعتبار نہیں تو اس قاضی کا فیصلہ آپ کو منظور نہیں ہوتا۔کیوں کہ فیصلہ آپ کی مرضی کا نہیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہے، ان کی تسلی کے لیے سن رہے ہیں جنہوں نے بغیر پڑھے فتوے جاری کیے، درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے آپ عدالتی فیصلے میں ایک بھی غلطی نہیں بتاسکے۔
درخواست گزار کو فیصلے میں عام باتوں پراعتراض ہے فیصلے پرنہیں،یہ بتائیے جھوٹے گواہان کے خلاف کیا کرنا چاہیے، قانون کے مطابق سمری ٹرائل کے ذریعے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، ایسے کیس میں جھوٹی گواہی دی جس میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔
سزائے موت ہوئی بھی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد نظرثانی درخواست مسترد کردی ہے۔
Comments are closed.