اسلام آباد: حریت رہنما الطاف بٹ کا کہنا ہے کہ بھارت تحریک آزاد کشمیر کو دبانے کی ہر کوشش اور سازش میں ناکام ہو چکا ہے۔ جس کا ثبوت بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور معصوم عوام کو بربریت کا نشانہ بنانا ہے۔
سینٹر آف پیس اینڈ سوشل سٹڈیز کے زیراہتمام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوان طلباء کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑ رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کے سینے چھلنی کر رہا ہے، کشمیری گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کر رہے ہیں، عالمی برداری کو سمجھنا ہو گا کر مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔عالمی برداری مسئلہ کشمیر میں حل کے لیے کردار ادا کرے۔
سینئر حریت رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر لابنگ کرنی چاہیے۔ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیرپاکستان کے بغیراور پاکستان کشمیر کے بغیرمکمل نہیں ہوسکتا۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ کشمیرکازکوسمجھنے والے لوگوں کے وفود بیرون ممالک بھجوائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگرکیا جائے۔
رکن قومی اسمبلی نورین ابراہیم کا کہنا تھا کہ عالمی تنظیموں کی جانب کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز نہ اٹھانا افسوس ناک ہے۔ مقبوضہ وادی میں کہ بھارت کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے،کشمیر کا مسئلہ دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، جسے اقوام متحدہ کو فوری حل کرنا ہو گا۔
نورین ابراہیم کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی جانب پہلا قدم اٹھایا اور کرتار پور سرحد کھول کر ثابت کیا کہ وہ امن کاخواہاں ہے۔
Comments are closed.