اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2019 کی منظوری دے دی گئی۔ تاہم حج پر سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سبسڈی نہ ملنے اور ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث عازمین حج کو ایک لاکھ 56 ہزار روپے اضافی دینا ہوں گے۔ حج کا فرض ادا کرنا عام پاکستانی کے بس میں نہیں رہا۔ پاکستانیوں کو فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے تقریباً 5 لاکھ روپے کے اخراجات برداشت کرنا ہونگے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں حج پالیسی 2019 اور سرکاری اسکیم کے تحت حج اخراجات و سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزارت مذہبی امور نے رواں برس فی حاجی 45 ہزار سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کے اس فیصلے کو مسترد کر دیااور رواں برس سبسڈی نہ دینے کا فصیلہ کیا گیا ہے۔
حج کے اخراجات کو دو زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 26 ہزار روپے ہوں گے،اجلاس میں پالیسی کے مندرجات پر غور کے بعد حج پالیسی 2019 کی منظوری دے دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران بریفنگ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس سال 80 سال یا زائد عمر کے افراد کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائے گا اور مسلسل 3 سال ناکام رہنے والوں کو بھی اس سال بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائے گا جب کہ سرکاری کوٹہ 60 اور نجی ٹورز آپریٹرز کا کوٹا 40 فی صد ہوگا، حج درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی اور اس سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔
Comments are closed.