کراچی : ڈاکٹر طاہر شمسی کو چند روز قبل برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد وہ نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔گزشتہ روز ان کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ آج صبح 7 بج کر 20 منٹ پر خالق حقیقی سے جاملے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کی نماز جنازہ ٹیبو سلطان روڈ پر واقع نجم مسجد میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں ڈاکٹرز اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی، انہیں آر سی ڈی ہائی وے پر واقع یوسف پورہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ڈاکٹر طاہر شمسی پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ماہر ترین ڈاکٹر اور امراض خون کے مستند ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز (این آئی بی ڈی) کے سربراہ کے علاوہ اسٹیم سیلز پروگرام کے ڈائریکٹر تھے۔پاکستان میں 1996 میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کرانے کا سہرا ڈاکٹر طاہر شمسی کے سر ہے جنہوں نے اس طرح کے 650 ٹرانسپلانٹ کیے اور 100 سے زائد تحقیقی مقالے لکھے۔
سال 2011 میں انہوں نے امراضِ خون کے علاج کے لیے این آئی بی ڈی کی بنیاد رکھی۔ڈاکٹر ظاہر شمسی ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے اور ہیماٹولوجی میں اسپیشلائزیشن کی۔جس کے بعد پاکستان واپس آکر انہوں نے ضیاالدین ہسپتال میں کینسر کا علاج شروع کیا اور بہت سے ڈاکٹروں کو تربیت دی۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے تھیلیسیمیا پر خصوصی تحقیق جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور اور آخر کار ایک ایسی دوا تیار کی گئی جس سے مریضوں کو خون کی منتقلی کی ضرورت کے بغیر صحت مند زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ڈاکٹر طاہر شمسی کے سوگواران میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
کورونا وائرس وبا کے ابتدائی عرصے میں جب ویکسینز دستیاب نہیں ہوئی تھیں اس وقت انہوں نے کووڈ مریضوں کے پلازما تھراپی کی تجویز دی تھی، جس کے بعد متعدد مریضوں کا اس طریقے سے علاج کیا گیا تھا۔ڈاکٹر طاہر شمسی سابق وزیرا عظم نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لیے بننے والے میڈیکل بورڈ میں بھی شامل تھے ۔
Comments are closed.