آزادکشمیرسپریم کورٹ کا حکومت کو 6 ماہ کےاندربلدیاتی انتخابات کروانےکاحکم

مظفرآباد: آزادکشمیر سپریم کورٹ نے آزاد حکومت کو 6 ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیاہے کہ حکومت آزادکشمیر اگست 2022 سے قبل آزادانہ، شفاف اورغیر جانبدارانہ بلدیاتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے۔

 عدالت نے کہاکہ الیکشن کمیشن آبادی کے نئے کراٹیریا کے مطابق 2017 کی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرواتے ہوئے الیکشن کروائے ۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں جسٹس خواجہ نسیم احمد ، جسٹس رضا علی خان اور جسٹس یونس طاہر پر مشتمل فل کورٹ نے فیصلہ سنایا۔

حکومت کی جانب سے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اعجاز احمد خان اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل ملک محمد ساجد سمیت دیگر آفیسر ان اور الیکشن کمشن کے نمائندگان پیش ھوئے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر عبدالقیوم نیازی نے منصب سنبھالنے کے بعد اعلان کیاتھاکہ وہ جون 2022 تک آزادکشمیر میں بلدیاتی الیکشن کروا دیں گے۔

آزادکشمیر میں آخری بلدیاتی الیکشن1991 میں ہوئے تھے، اس کے بعد بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر کا تقرر چلا آ رہاہے ۔ اس طرح مقامی سطح کے اختیارات اور وسائل بھی ارکان اسمبلی کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ آزاد کشمیر میں بلدیاتی اداروں کی تاریخ 1960ء کی دہائی سے شروع ہوتی ہے۔ صدر ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرانا چاہا تو اس کا پہلا تجربہ آزادکشمیر میں کیا گیا  تاہم زیادہ موثر اور متحرک بلدیاتی نظام 1978ء میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکمرانی کے وقت وجود میں آیا جس کا تسلسل 1996ء تک برقراررہا۔

Comments are closed.