قومی سلامتی کمیٹی نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

 اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی جو 2026 تک نافذالعمل رہے گی ۔پالیسی وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی ،شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سیکیورٹی ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان کسی بھی داخلی اور خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی پہلی پانچ سالہ قومی سلامتی پالیسی کی منظور دی گئی۔شہریوں کا معاشی تحفظ پالیسی کا اہم ترین جزو قرار دیاگیا ہے۔اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان،وفاقی وزراء ،مشیر قومی سلامتی ،سینئر سول و عسکری حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری اور منظوری تاریخی اقدام ہے۔ قومی سلامتی ڈویژن اور متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، پالیسی پر موثر عملدرآمد کے لیے تمام ادارے مربوط حکمت عملی اپنائیں،وزیر اعظم نے مشیر قومی سلامتی کو پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملک کا تحفظ شہریوں کے تحفظ سے منسلک ہے، پاکستان داخلی اور خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے بریفنگ میں اجلاس کو بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک جامع قومی سیکیورٹی فریم ورک کے تحت کمزور طبقے کا تحفظ اور وقار یقینی بنائے گی۔ شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سیکیورٹی ہوگا۔ قومی سلامتی کمیٹی سے منظوری کے بعد اب پالیسی وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

Comments are closed.