ہمیں ہمارا رویہ مارتاہے۔۔۔ سانحہ مری

تحریر: ارسلان خان سدوزئی صحافی(اسلام آباد)

عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہم بحثیت قوم بے وقوف لوگ ہیں ،نہ ہماری کسی نے ٹریننگ کرنے کی کوشش کی نہ ہم نے خود سیکھنے کی کوشش کی، اور نہ ہی کچھ اچھا سیکھنے کی جدوجہد کی طرف جانا ہے الحمداللہ ،اشارے پر کھڑے ہیں آپ دیکھنا کئی لوگ اشارہ کھلنے کے لیے ایک منٹ تک کا انتظار نہیں کرتے اور موت کو گلے لگا لیتےہیں،کہیں ایک منٹ کا ٹریفک جام ہو جہاں دو گاڑیاں کھڑی ہونے کی جگہ ہوگی وہاں بیس گاڑیاں بے ہنگم کھڑی نظر آئیں گی۔

اب آتےہیں سانحہ مری کی طرف، سانحہ مری پر تجزیے شروع ہو گئے،انتظامیہ کی نااہلی کا پول کھل گیا ،سارے نام نہاد تجزیہ کار اپنی ریٹنگ بڑھانے کےلیے بیانات جاری کر رہے ہیں،لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔دیکھا جائے تو نہ انتظامیہ کی نااہلی ہے نہ حکومت کا کچھ لینا دینا،ہمارے رویے ہیں جو ہمیں لے ڈوبتےہیں ،آپ میں سے ہر آدمی مری سے واقف ہو گا،موٹروے کے علاوہ ساری سڑکیں سنگل ہیں ،اور یہ عمومی طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ کہیں ایک منٹ کے لیے ٹریفک جام ہو جائے ہم ڈبل کیا بلکہ ٹرپل لائن لگانے میں دیر نہیں کرتے،تو مری میں بھی ہوا کچھ ایسے ہی ،لوگوں کی بے صبری نے ٹریفک ایسی جام کی کہ پھر یہی حرکت ان کے گلے آن پڑی،دوسرا کہیں بھی لوگ موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلتےہیں لیکن ہمارے پیارے بھائی جب برفباری میں پھنس گئے تو ادھر جا کر ویدر فورکاسٹ دیکھی۔

تو یہ ہمارے رویےہی ہیں جو ہمیں مشکلات سے موت تک دھکیل کر لے جاتےہیں،اور جب کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو پھر انتظامیہ کی نااہلی کا رونا روتےہیں یا گورنمنٹ کو گالیاں دیتے نظر آتےہیں۔دوسرا گھومنے جاو ضرور جاو لیکن اپنے بجٹ کے حساب سے ،کئی لوگ بس پٹرول کے پیسے پورے ہیں تو چل پڑتےہیں ،چلو یہ بھی خیر کی بات ہے لیکن تھوڑا تو انتظام کر لو کچھ کھانے پینے کو رکھ لو سارا کام اللہ کے آسرے پر نہ چھوڑو۔

سوشل میڈیا پر ایک دن کسی نے لکھا تھا کہ پاکستانیوں کو پتا چلے کل قیامت ہے مصلے زیادہ بکیں گے تو مصلے کی قیمت بھی ڈبل ہو جائے گی ،مری والے بھی ہمارے ہی بھائی ہیں،ان کا رویہ ہم سے بہتر کیسے ہو سکتا ہے ، برف کی پیش گوئی سنتےہی کرائے اتنے بڑھا دیے کہ صرف پٹرول فل کر کے مری بھاگنے والے بھائیوں کے لیے ہوٹل لینا مشکل ہو جاتاہے ،باہر رہنا یا گاڑی میں سونا موت کو آواز دینے کے مترادف ہے

تو بھائیو ہمارے رویے ایسے ہوں گے تو حادثات تو جنم لیں گے۔ ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے ہمیں ہمارے بچوں کو سکھانے کی ضرورت ہے، نہیں توآنے والے کل میں وہ بھی ہمیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کریں گے

Comments are closed.