سانحہ مری کی ذمہ دار این ڈی ایم اے ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے این ڈی ایم اے کو سانحہ مری کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم ایک ہفتے میں اجلاس بلا کر ذمہ داروں کا تعین کریں۔

سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے مری کے رہائشی حماد عباسی کی جانب دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ 7 جنوری کو مری گیا،جب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے تو کسی نے ان کو نہیں روکا اور نہ ہی خدشے سے آگاہ کیا۔این ڈی ایم اے کے ممبر ڈیزاسٹر منیجمنٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کل کو خدا نخواستہ زلزلہ آئے تو آپ نے کہنا ہے کہ ہماری ذمہ داری نہیں، ان 22 لوگوں کی اموات کا ذمہ دار کون ہے؟عدالت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے 2010 میں ایک قانون بنایا جس پر عمل درآمد ہونا تھا۔عدالت نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون کی متعلقہ شقیں پڑھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ درخواست گزار کی شکایت ہے کہ کوئی تیاری نہیں تھی ورنہ 22 افراد کی جانیں نہ جاتیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی آج تک کبھی میٹنگ ہوئی ہے؟ممبر این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ 21 فروری 2013 کو ایک میٹنگ ہوئی، دوسری میٹنگ 28 مارچ 2018 کو ہوئی۔عدالت نے پوچھا کہ کسی لیڈر آف دی اپوزیشن نے آپ کو درخواست کی کہ کمیشن کی میٹنگ بلائیں؟ جس پر ممبر نے بتایا کہ کسی اپوزیشن لیڈر نے ہمیں میٹنگ بلانے کا نہیں کہا۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس سے زیادہ پاورفل باڈی کوئی اور ہو سکتی ہے؟ کبھی ڈی جی این ڈی ایم اے نے حکومت کو لکھا کہ میٹنگ بلائیں وگرنہ کل کوئی آفت آئی تو ذمہ داری ہم پر آئے گی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ممبر این ڈی ایم اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ناکام ہوئے ہیں، آپ کی ذمہ داری تھی کہ میٹنگ بلاتے، آپ کی ذمہ داری تھی کہ اس علاقے کے لیے نیشنل مینجمنٹ پلان دیتے۔عدالت نے ممبر این ڈی ایم اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھ نہیں رہے، آپ کی اتھارٹی نے قانون پر عمل کرانا تھا،کسی اور پر الزام نہ لگائیں، اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع کے ذمہ داروں تک کیلئے ذمہ داری ڈالتا ہے، آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس باڈی کی میٹنگز ہوں اور قانون پرعمل درآمد ہو۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پوچھا کہ صوبائی باڈیز کے کبھی میٹنگز ہوئی ہیں؟ اگر اس قانون پر عمل ہوا ہوتا تو ایک شہری کی بھی ہلاکت نہ ہوتی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طیب شاہ کی زیادہ وقت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا معاملہ ہے، اس دوران کوئی اور سانحہ ہوگیا تو ذمہ دار کون ہوگا، ذمہ داروں کا تعین کرکے آئندہ جمعہ تک عدالت کو آگاہ کریں عدالت نے سانحہ مری پر تحقیقات کی سماعت آئندہ جمعے تک ملتوی کر دی۔

Comments are closed.