ثاقب نثار آڈیو کلپ کی تحقیقات،غیرملکی مستند فرانزک ایجنسیوں کے نام طلب

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے آڈیو کلپ کی تحقیقات کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل اور پاکستان بارکونسل سے غیر ملکی مستند فرانزک ایجنسیوں کے نام طلب کرلیے۔

سماعت کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار کے صلاح الدین ایڈووکیٹ بطور پٹیشنر عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا ہے سابق چیف جسٹس آف پاکستان کی مبینہ آڈیو گفتگو کی انکوائری کرائی جائے کہ وہ درست ہے یا غلط،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تمام چیزیں زیر التوا اپیل سے متعلق ہیں، جن کی اپیلیں ہیں انہوں نے انکوائری کا مطالبہ نہیں کیا، آپ ایک انکوائری کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا اثر زیر التوا اپیلوں پر آئے گا،کیا ہائیکورٹ رٹ پٹیشن میں ایسا آرڈر جاری کر سکتی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کیا کورٹ کمپرومائزڈ تھی اور بینچ پریشر میں بنایا گیا تھا؟ اس سے متعلق کوئی چھوٹا سا بھی ثبوت ہے؟ آپ جب انکوائری کا کہتے ہیں تو وہ بینچ میں شامل ججز کی ہو گی۔صلاح الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ میری پٹیشن میں بنیادی استدعا ثاقب نثار کے آڈیو کلپ کی انکوائری سے متعلق ہے،اس آڈیو کلپ میں یہ نہیں کہا گیا کہ دوسری طرف وہ کسی جج سے بات کر رہے ہیں۔ عدالت نےثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا فرانزک تجزیہ کرانے کی پیشکش کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل سے غیر ملکی مستند فرانزک ایجنسیوں کے نام طلب کرلیے اور سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.