افغانستان میں انسانی بحران خاتمے کیلئے امریکا، یورپی ممالک کے طالبان سےمذاکرات

افغانستان میں انسانی بحران کے خاتمے کے لئے امریکی، یورپی ممالک اور طالبان حکومت کے نمائندہ وفد کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے جب افغانستان میں موسم سرما کے دوران قحط، بھوک کے باعث غربت کی شرح میں مزید اضافے اور انسانی جانوں کو شدید خطرات درپیش ہیں۔ مذاکرات میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے نمائندے شریک ہیں۔ جب کہ طالبان وفد کی قیادت افغانستان کے قائم مقام  وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ نے اتوار کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا اپنے تحفظات اور افغانستان میں استحکام، انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے طالبان کے ساتھ غیرمبہم سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان مذاکرات کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے ناروے اور اس کے نیٹو اتحادی ممالک نے تاحال افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تاہم انسانی بحران کی شدت کے پیش نظر مذاکرات اور بات چیت کو وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان مخالف بعض افغان گروپس اور ناروے میں دائیں بازوں کی اپوزیشن جماعت کی جانب سے ان مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون عسکریت پسند گروپ (طالبان) کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔

تاہم ناروے کی وزیر خارجہ اینیکن ہیڈفیڈت کا کہنا ہے کہ افغانستان کے تین کروڑ90 لاکھ افراد اقتصادی زبوں حالی، کورونا وباء اور قحط کا شکار ہیں، اگر بروقت خوراک نہ پہنچی تو 10 لاکھ افغان بچے بھوک کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں اور بدقسمتی سے رواں برس افغانستان کی 97 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے جا سکتی ہے۔

Comments are closed.