ایک اور گیس بحران، 3 پاور پلانٹس بھی بند

ایل این جی کارگو لنگر انداز ہونے میں تاخیر کے باعث گیس بحران سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ۔ ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس بند ہونے سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی۔

پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایل این جی کارگوز تاخیر سے لنگرانداز ہو تو گئے ہیں لیکن تین بجلی گھر اور سی این جی اسٹیشن بند  ہونے سے صارفین کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ سابقہ دور حکومت میں جہازوں کو لنگرانداز کرنے کیلئے سمندر میں غلط مقام کا انتخاب کیا گیا۔ جس کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے پانی کم ہونے وجہ سے ایل این جی کارگوز لنگرانداز ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان سٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی کے ایل این جی کارگوز بندرگاہ پر تاخیر سے لنگرانداز ہونے کےباعث اینگرو ٹرمینل سے گیس کی فراہمی کم ہوکر 220 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ۔ پاورسیکٹر کو گیس کی بندش کے باعث بھکی ، حویلی بہادر شاہ اور بلوکی بجلی گھروں سے پیداوار بند ، 3 ہزارمیگاواٹ سےزائد بجلی سسٹم سے نکل گئی، جسے فرنس آئل سے مہنگے پاور پلانٹس چلا کر پورا کیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق اینگرو ٹرمینل کی جگہ پر سمندر کی گہرائی کم ہونے سے ایل این جی کاکارگوز کو لنگرانداز ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ سوئی نادرن ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل این جی کے دونوں جہازلنگرانداز ہو چکے ہیں ، تمام شعبوں کو گیس کی فراہمی جلد بحال کر دی جائے گی ۔

ایل این جی کارگوز لنگرانداز ہونے کی وجوہات قدرتی ہوں یاتکنیکی حکومت کو چاہیے کہ اس کا مستقل حل تلاش کرے تاکہ عوام کو مستقبل میں توانائی بحران کا سامنا نہ کرناپڑے۔

Comments are closed.