اسلام آباد:پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ۔اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ آج درخواست کی سماعت کریں گے ۔پی ایف یو جے کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ ترمیم آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے، اسے کالعدم قرار دیاجائے ۔
پی ایف یو جے نے درخواست میں موقف اختیا رکیاہےکہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ترمیم آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے ،پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی آرڈیننس جاری کرنا غیر قانونی ہے ،حکومت نے پیکا قوانین میں ترمیم کے لیے سینیٹ اجلاس ختم ہونے کا انتظار کیا جبکہ ڈرافٹ پہلے سے تیا رتھا۔
پی ایف یوجے کاکہنا ہے کہ ایسی کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی کہ آرڈیننس کے ذریعے ایکٹ میں ترمیم کی جاتی ،جلد بازی حکومت کے مذموم مقاصد کوظاہر کرتی ہے۔ آرڈیننس صحافیوں کی آواز دبانے کیلئے لایا گیا ہے ،آزادی اظہار کا قتل، ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔پیکا ایکٹ میں ترمیم کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیاگیاہے ۔
Comments are closed.