لہسن کے حیرت انگیز فوائد،وزن کم کرنےسے جلد کی نشونما تک

 سرد موسم میں نزلہ ، زکام ، نمونیا ، سینے اور ہڈیوں کے درد سے بچاتا ہے کیونکہ مزاجاً گرم اور خشک درجہ چار مرتبہ وسطح پر فائز ہے، سرد موسم میں سوائے تیزابیت کے مریضوں کے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔

 وزن کم کرنے کے لیے لہسن کا عرق زیادہ بہتر ہے اور اس کا استعمال نہار منہ زیادہ مناسب ہے، مگر تیزابیت بڑھ نہ جائے اس خوف کے پیشِ نظر لہسن ملی دیسی مرغ کی یخنی پینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

دل کے مریضوں کو لہسن کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے، کیونکہ اس میں تھوڑی مقدار میں ’ کو انزائم کیو ٹین‘ ہے جو عضلات کے ریشوں کو پیدا کرتا ہے، مگر بہتر ہے اگر کوئی دل کا مریض جدید ادویات استعمال کررہا ہو تو وہ لہسن نہ کھائے کیونکہ دل کے مریضوں کا جگر اور گردہ بہت لاغر ہوتا ہے جسکے یکدم فیل ہونے امکانات ہوتے ہیں۔

 شریان کو عریض کرنے کے لیے اس طرح فعل انجام دیتا ہے کہ چربی جو شریانوں کو تنگ کرنے کی ذمہ دار ہے ، اسے پگھلادیتا ہے، اسی وجہ سے جن اشخاص کے دل کی شریان اکلیلی (کارونری آرٹری) میں تنگی ہوتی ہے، ان کے لیے لہسن بہت افادیت کا حامل ہے۔

جلد ، بالوں کی نشوونما میں لہسن اپنے اندر سمائے ہوئے ’ امائی نو ایسڈ کے ذریعے فائدہ پہنچاتا ہے، اس مقصد کے لیے بھی لہسن مرغی کی یخنی میں ملا کر استعمال کرنا بہتر ہے۔

 لہسن میں پایا جانے والا وٹامن سی زبان ہی سے بذریعہ آخذ خلیات لسانی ( زبان میں موجود ری سیپٹر) بہت جلد جذب ہوتا ہے یوں جِلد میں رعنائی اور آنکھوں کے چند امراض میں مفید ہے۔

 اس میں موجود کیلشیم کے ساتھ وٹامن ڈی اس قدر ہوتا ہے کہ کیلشیم جلد جذب ہو جاتا ہے یوں ہڈیوں کی لچک بحال رکھتا ہے، بوڑھوں کی ہڈیاں کیلشیم کے استعمال سے دکھنے لگتی ہیں، مگر لہسن میں موجود کیلشیم سے انہیں بھی بہتری محسوس ہوتی ہے۔

 شوگر کے مبتلا حضرات کو لہسن اس لیے مفید ہے کہ یہ ’ انسولین‘ رزسٹ ٹینس ‘ کو ٹھیک کرتا ہے۔

اکثر مریضانِ ذیابیطس کی شکایت رہتی ہے کہ ادویہ اور انسولین ٹکیوں کے استعمال کے باوجود ان کی شوگر زیادہ رہتی ہے، ایسے اشخاص کو بھی لہسن مرغی کی یخنی میں ملا کر استعمال کرنا چاہیے،کیونکہ لہسن کے اجزاء ذرا پھول جاتے ہیں، اور معدہ جلد ہی انہیں ہضم کرسکتا ہے، مزید یہ کہ پانی کے ساتھ اجزاء آنتوں میں جلد اتر جاتے ہیں۔

 ضدِ حیوی ہونے کی وجہ سے لہسن ایک حد تک (نیروسپیک ٹرم) اینٹی فنگل، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹریل ہے، سینے، دماغ اور جِلد کے جراثیم کو بخوبی ختم کردیتا ہے، مگر معدے میں کچھ حد تک ہی ضدِ حیوی فعل انجام دیتا ہے، بلکہ درد کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔

 جن اشخاص کے ناک میں ورم (سائینو سائی ٹِس) ہوتا ہے، ان کے لیے’پروسسڈ روغنِ لہسن‘ کے چند قطرے ناک کے نتھنوںپر ٹپکانے سے بند ناک (نیزل کانجیشن) فوراً کھل جاتی ہے۔

لہسن کی اتنی ہی مقدار استعمال کی جائے کے پسینے سے اس کی بو نہ آئے۔ایک دن کے اندر دو جوئے لہسن استعمال کرسکتے ہیں اگر یخنی کی میں ملا کر استعمال کیا جائے تو چھ جوئے بھی استعمال کیا جاسکتے ہیں۔

Comments are closed.