سپریم کورٹ کا جھوٹے گواہوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا ہے اسلامی شریعت کےمطابق جھوٹے گواہ کی شہاددت ساری زندگی تسلیم نہیں کی جاتی، جلد قانون لائیں گےکہ جھوٹے گواہوں کی ساری گوہی مسترد کر دی جائے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کیس میں ملزم کی بریت کیخاف اپیل کی سماعت کے دوران کہا ساری دنیا میں گواہی کا کچھ حصہ جھوٹ ہونےپر پوری گواہی مسترد کر دی جاتی ہے ، یہاں چالیس سال سے عدالتوں نے اس معاملے پر رعایت دے رکھی ہے ، فرض کر لیا گیا کہ گواہ تو جھوٹ بولتے ہی ہیں سارا بوجھ عدالتوں پر ڈال دیا گیا کہ وہ سچ کو جھوٹ سےعلیحدہ کریں ، جھوٹے گواہوں کے خلاف جلد قانون لائیں گے ۔

چیف جسٹس مندرہ میں دوہرے قتل کے مقدمے کی سماعت کر رہے تھے ، ملزم محمد حنیف کو رشتےکے تنازعے پر دو افراد کو قتل کرنے پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی ، ہائیکورٹ نے شہادتوں اور بیانات میں تضاد کی بنیاد پر ملزم کو بری کر دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی بریت کے خلاف اپیل مسترد کر دی ۔

Comments are closed.