تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں،سپریم کورٹ

 اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہاہے کہ پارٹی کے اندر جمہوریت ہوتو آرٹیکل تریسٹھ اے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں۔ جسٹس اعجاز الحسن کہاکہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے،تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں۔

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی ۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے دلائل دئیے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی رکن بھی ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا۔آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں،جسٹس اعجاز الحسن کہاکہ اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہے تو خلاف ورزی خیانت ہو گی۔ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے،تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر ساتھ دینے کا پابند ہے؟کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفکیٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے،وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے۔

 جسٹس جمال خان مندوخیل نےکہا کہ آئین ہر شخص کوخیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے۔کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے؟چیف جسٹس نے کہا آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟62ون ایف کوالیفکیشن کی بات کرتا ہے، اس میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی۔پارٹی کے اندر جمہوریت ہوتو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی۔آرٹیکل63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے،اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے اور قرآن پاک میں اس کی سخت سزا ہے۔جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اگر ووٹ شمار نہ ہو تو دوسری کشتی میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Comments are closed.