پاکستان اور بیرون ممالک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کی جنونی صورت حال میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں پر تنقید اور پراپیگنڈہ مہم کیلئے استعمال ہونے والے سوشل میڈیا کے بڑے بڑے نام ایسے گھومے جیسے کسی مداری (تماشا کرنے والے) کے کہنے پر بچہ جمورا (بندر) گھومتا ہے۔
ماضی میں عدالتوں، فوج اور عسکری قیادت پر تنقید کرنا جن کا معمول تھا آج وہ ‘اداروں’ کی بالادستی کی باتیں کر رہے ہیں، جب کہ عدلیہ، فوج، آئی ایس آئی اور اہم فوجی عہدیداروں کی تعریفوں میں زمین آسمان کی قلابیں ملانے والے آج انہی اداروں اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں۔ بات صرف تنقید تک محدود رہتی تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن سابقہ حکمرانوں کی کرپشن بے نقاب کرنے یا موجودہ حکومتی عہدیداروں کے ماضی کو بنیاد بنا کر عزتیں اچھالنے والے ‘سوشل میڈیا وار کالج’ سے فارغ التحصیل جوان تمام حدیں پار کرتے گئے۔
گزشتہ چند برسوں میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کو جس طرح کے ماحول میں پروان چڑھایا گیا اور بظاہر مخالفین کے خلاف عوامی رائے بنانے کیلئے جو برین واشنگ کی گئی وہ سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی کی تقلید کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے جیالے بھی اس میدان میں اترے اور ہر جماعت کے کارکن ایک دوسرے پر بازی لینے کے چکر میں اخلاقیات کو بہت پیچھے چھوڑ گئے۔ حالت یہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کا بہت بڑا حصہ اس وقت جنونیت، انتہاء پسندی کے اس درجے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو۔
آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایکٹِوو پڑھے لکھے نوجوان۔۔۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور مختلف شہروں کا نظام تہہ و بالا کرنے والے تحریک لبیک کے ان جنونی کارکنوں سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے ہیں جنہیں ‘امیر حضرت’ کے فرمان کے سوا سب کچھ کفر لگتا تھا، سوشل میڈیا وار کالج کے بانیان، منتظمین نے ذاتی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے کورس میں صرف شخصیت پسندی پر فوکس رکھا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کے گن گائے جا رہے ہیں لیکن اسی آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ کو ضمیر فروش، بکاؤ اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔
اسی طرح پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے پر شادیانے بجانے، توسیع کےحق میں دلائل دیتے نہ تھکنے والے عمران خان کے کھلاڑی اب اسی جنرل باجوہ کو امریکی غلام کہہ رہے ہیں اور ان پر ڈالرز کے عوض پاکستان کے خلاف سازش کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے دورے کو اعلیٰ ترین اعزاز سمجھنے والے بڑے بڑے سوشل میڈیا انفلوئنسرز آج جی ایچ کیو پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں انتہاء پسندی، شدت پسندی کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کرنا کوئی نئی بات نہیں، کبھی مسلکی بنیادوں پر خون خرابہ تو کبھی لسانیت کے نام پر شدت پسندی پھیلائی گئی۔۔۔ کسی نے مذہب کو ڈھال بنا کر انتہاء پسندوں اور شدت پسندوں کو تقویت دی، لیکن ہر بار نقصان پاکستانی عوام کا ہوا، لیکن اب ففتھ جنریشن وار کے ‘استادوں’ نے سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کے نام پر انتہاء پسندی اور شدت پسندی کا جو بیج بویا ہے وہ عوام کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کے لئے بھی زہر قاتل ثابت ہو رہاہے۔
Comments are closed.