سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلسل پانچ روز سے کرفیو نافذ ہے ہزاروں کشمیری مسلمان جانیں بچانے کیلئے مساجد اور درباروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
غاصب بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں مسلسل پانچویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کے باعث نظام زندگی بری طرح متاثر ہے، جگہ جگہ رکاوٹوں اور بے جا تلاشیوں نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
کشمیری مسلمان اپنے ہی علاقوں میں عدم تحفظ کا شکار ہے، گھروں اور املاک کو نذر آتش کرنے پر وادی بھر میں مسلمان تاجروں کا احتجاج جاری ہے جب کہ ہزاروں کشمیری مسلمان جانیں بچانے کیلئے مساجد اور درباروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں زیر تعلیم طلباء جان بچانے کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ کر مقبوضہ وادی واپس لوٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
حریت رہنماؤں کی جان کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں جس کے پیش نظر درجنوں کشمیری نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر حریت رہنماؤں کی سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے ہیں، حریت رہنماؤں نے گزشتہ روز ہونے والی شہادتوں اور بے جا گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مقبوضہ وادی میں انسانیت سوز سلوک دیکھ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے کشمیریوں کا قتل عام بند کرنے اور ان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Comments are closed.