کراچی سے غائب ہونے والی بچیاں لاہور اور ڈی جی خان سے بازیاب ہوئی ہیں،دونوں نے کم عمری میں ہی گھر سے بھاگ کر اپنی مرضی سے شادی کرلی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا زہرہ کی ظہیر نامی لڑکے سے آن لائن گیم پب جی کھیلنے کے دوران دوستی ہوئی اور بات یہاں تک جا پہنچی، بچیوں کے مستقبل کا معلوم نہیں، والدین زندہ درگور ہو چکے ہیں۔ یہ کہانی صرف کراچی کے ان بدقسمت والدین کی نہیں،حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ میرا گھر محفوظ ہے تو یہ درست نہیں ہوگا۔اس سماجی اور معاشرتی المیے کے حوالے سے مذہبی ہو یا لبرل ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی لیکن آغاز ہمیں گھر سے کرنا ہوگا، اگر ہم اپنی ذمہ داری پوری کیے بغیر یہ توقع رکھیں کہ کوئی اور آکر ہمارے بچوں کو بچا کر دے گا تو ہم سنگین غلطی کر رہے ہیں۔
بد قسمتی سے ہم بچوں کی تعلیم کے لیے ہلقان ہیں، اچھے سے اچھا اسکول اور بھاری سے بھاری فیسیں لیکن تربیت پر 5 فیصد توجہ بھی نہیں۔۔آپ جہاں بھی پڑھیں گے تعلیم و تربیت ایک ساتھ لکھا ہوا ملے گا لیکن ہم تربیت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور بچوں کو نمبروں کی مشین بنانے کے لیے سرپٹ دوڑا رہے ہوتے ہیں،ایسے بچے ڈاکٹر بن بھی گئے تو مریضوں کو جعلی دوائیاں لکھ کر دیں،انجینئیر بن گئے تو مٹی ڈال کر سڑک بنائیں گے۔انتطامی یا پولیس افسر بن گئے تو رشوت ستانی کا بازا گرم کریں گے۔
پہلا اور بنیادی کام یہ ہے کہ بچوں کی تربیت پہلی ترجیح بنائیں،ہر معاملے میں فرمانبرداری یا بڑھاپے میں والدین کی خدمت بھی وہی بچہ کرے گا جس کی تربیت اچھی ہوئی ہو گی، ورنہ ایسی رسوائی کیساتھ اولڈ ہوم بھی ہمارامقدر ہے، کبھی بھی بچوں کو تنہائی میں انٹرنیٹ تک رسائی نہ دیں،گھر میں انٹرنیٹ ضرور لگوائیں لیکن کمپوٹر یا لیپ ٹاپ بند کمرے کےبجائے کامن روم میں رکھیں اور سب لوگ وہیں استعمال کریں،بچے انٹر نیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں، سب آپ کی نظروں کے سامنے ہونا چاہیے، کم سے کم یونیورسٹی پہنچنے تک بچوں کو سمارٹ فون ہر گز نہ دیں۔

بچوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون دے کر انہیں اس کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھنا ایسے ہی ناممکن ہو گا کہ آپ بچوں کو کپڑوں سمیت سوئمنگ پول میں پھینک دیں اور ان سے کہیں کہ کپڑے گیلے نہیں ہونے چاہیں۔سوشل میڈیا ایک گٹر ہے،اس کے اندر رہ کر آپ اس کے تباہ کن اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے تاوقتیکہ آپ خود کے لیے حدود وقیود طے کرنے کے قابل نہ ہوں،اس لیے بچوں کے حقیقی معنوں میں سمجھدار ہونے تک یہ ذمہ داری والدین کو نبھانی ہو گی۔
دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کو معاشرے کے اندر ناسور کی طرح پھیلی ان برائیوں سے متعلق بالغ ہونے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے سمجھائیں تاکہ وہ جسمانی تبدیلیوں کیساتھ ذہینی خلفشار کا مقابلہ کر سکیں اور چیزیں چھپانے کے بجائے آپ سے مشورہ کریں۔

زمانہ بدل چکا ہے اب یہ پیچھے کو نہیں پلٹے گا،ہمیں ہی اس کی رفتار کیساتھ چلنے کی کوئی سبیل پیدا کرنا ہو گی، بچوں کو دین کی روح سمجھانا ہو گی لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خود عملی نمونہ بنیں،بچے کہنے سے نہیں، آپ کا عمل دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔آپ اپنے بیٹے کی اچھی تربیت کردیں وہ کبھی کسی کے گھر عزت پامال نہیں کرے گا۔بیٹی کو اتنا پیار دیں کہ کسی اجنبی کے دو میٹھے بول اسے نعمت نہ لگیں۔
اس سب کیساتھ ہمیں اپنی اپنی کمیونٹی میں اپنی نوجوان بچیوں کے لیے ایسی تربیتی نشستوں کا اہتمام کرنا ہو گا جہاں انہیں دینی اور دنیاوی حوالے سے بھرپور رہنمائی میسر آ سکے،ایسے سوال جو وہ گھر میں نہیں اٹھا سکتیں ان کا بھی جواب مل سکے۔ زیادہ سے زیادہ کمانے کی کی دھن میں ہم نے خود کو مشین بنائے رکھا اور گھر کے ماحول سمیت معاشرے کی اجتماعی بہتری پر توجہ نہ دی تو ہمارا انفرادی انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔یہ آگ ایک ایک کرکے ہر گھر میں کھلنے والی ننھی کلیوں کو جھلسا کر رکھ دے گی۔ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم دنیا بھرکےحالات اور خبروں سے پہلے اپنے گھر اور بچوں سے باخبر رہیں۔
اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو ایسی ہر برائی اور مشکل وقت سے محفوظ رکھے۔آمین
Comments are closed.