دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی کی جانب سے دستاویزی ثبوتوں، بین الاقوامی ماہرین کی رپورٹس کے ساتھ ٹھوس دلائل پیش کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی تک کلبھوشن کی شہریت ثابت نہیں کر سکا ایسے میں کمانڈر یادیو کی فوری بریت، رہائی اور حوالگی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔
اپنے دلائل کے دوران خاور قریشی نے ویانا کنونشن کی دفعات کے تحت قونصلر رسائی، دو ہزار آٹھ کے پاک بھارت معاہدے، کلبھوشن یادیو کے جعلی شناخت والے اصل پاسپورٹ سے متعلق جارحانہ انداز میں دلائل پیش کیے۔ انہوں نے عدالت میں سوال اٹھایا کہ اگر کلبھوشن یادیو کو ایران سے اغوا کیا گیا ہے تو ایران سے پاکستان کے نو گھنٹے کے سفر کا بھارت کے پاس کیا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کمانڈر یادیو کی دوہری شناخت سے متعلق پاکستانی سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ کیونکہ اس کے پاس حسین مباک پٹیل کی جعلی شناخت والا اصل بھارتی پاسپورٹ موجود تھا جو اسے دو ہزار تین میں جاری ہوا جس کی تجدید دو ہزار چودہ میں کی گئی۔
خاور قریشی نے برطانوی ماہر کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے مطابق کلبھوشن یادیو سے برآمد حسین مبارک پٹیل کی شناخت والا پاسپورٹ اصل ہے جس پر وہ سترہ مرتبہ سفر کر چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ پر درج پتے پر نہ صرف کلبھوشن یادیو کی والدہ رہائش پذیر ہیں بلکہ وہ جائیداد کمانڈر یادیو کی والدہ کے نام پر ہے۔
پاکستانی وکیل نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو ٹرائل کے دوران وکیل کرنے کی اجازت نہ دینے سے متعلق بھارتی الزام بے بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ فوجی عدالت میں ٹرائل کے دوران کلبھوشن کو نہ صرف اپنے دفاع کے لیے وکیل فراہم کیا گیا بلکہ ان کی استدعا پر تین ہفتوں کے ٹرائل ملتوی بھی کیا گیا۔
خاور قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت بار بار ویانا کنونشن کے آرٹیکل چھتیس کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے لیکن اس کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کلبھوشن یادیو کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک دہشتگرد اور جاسوس ہے اور جاسوس کو قونصلر رسائی دینا ویانا کنونشن کے ہی دیگر آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہوگا جس میں کہا گیا کہ ایک جاسوس یا کسی ریاست کے خلاف کام کرنے والے شخص کو ایسی کوئی رعایت نہیں دی جاسکتی۔
پاکستانی وکیل نے کہا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے اپنے انٹرویو میں بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی کا اعتراف کیا ، اور کہا کہ پاکستان بلوچستان سے ہاتھ دھو دے گا، اجیت دوول کے بقول کلبھوشن یادیو نے بلوچستان میں دہشتگردی میں اہم کردار ادا کیا، اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے کلبھوشن ایک آلہ کار تھا۔
خاور قریشی نے کہا کہ بھارت کا یہ الزام بھی بے بنیاد ہے کہ کلبھوشن یادیو پر کسی قسم کا تشدد کر کے اقبالی بیان ریکارڈ کیا گیا، انہوں نے جرمن ماہر ڈاکٹر کی رپورٹ بھی پیش کی جس کے مطابق کلبھوشن یادیو کی اعترافی بیان کے وقت صحت مکمل ٹھیک تھی۔
پاکستانی وکیل نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کی بریت، رہائی اور بھارت حوالگی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ بھارت ایک ایسے شخص کی بریت، رہائی اور حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ وہ ایک جاسوس اور دہشت گرد ہے۔ خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی درخواست کو مسترد کیا جائے۔
مقدمے کی سماعت بدھ کو بھی جاری رہے گی، بھارت کے وکیل جواب الجواب دیں گے۔ جبکہ جمعرات کو پاکستان کی جانب سے بھارتی جواب الجواب کے جوابی دلائل پیش کیے جائیں گے۔
Comments are closed.