اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان بھارت پر واضح کیا ہے کہ پاکستان مخالف کسی بھی کارروائی پر سوچیں گے نہیں بلکہ فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں واقعہ ہوا،بھارت نے بغیرسوچے سمجھے پاکستان پر الزام لگادیا، پاکستان میں سعودی ولی عہد کے دورے کی تیاری جاری تھیں، اس لئے اب بھارتی حکومت کو جواب دے رہا ہوں۔ بھارت نے شواہد کے بغیر پاکستان پرالزام لگایا اور نہ ہی یہ سوچا گیا کہ اس میں پاکستان کا کیا فائدہ ہے، کوئی احمق ہی ہوگا جو ایسا موقع خود سبوتاژ کرے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کو پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر بھارت واقعے سے متعلق ثبوت دے تو وہ خود ایکشن لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘میں یہ بات واضح طور پر کہتا ہوں یہ نیا پاکستان اور نئی سوچ ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں، بھارت میں بھی ایک نئی سوچ آنی چاہیے، بھارت کو اگر ماضی میں ہی پھنسے رہنا ہے تو آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ ہم دہشت گردی پر بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھایا ہے۔ 70 ہزار سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی سرزمین استعمال کی ہے تو وہ پاکستان کا ہی دشمن ہے’’۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے ختم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر بھارت نے کوئی بھی کارروائی کی تو پاکستان سوچے گا نہیں بلکہ بھرپورجواب دے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں سے موت کا خوف نکل گیا ہے، اس کی کوئی تو وجہ ہے، افغانستان میں 17 سال بعد دنیا یہ تسلیم کرچکی ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے، افغان مسئلے کی طرح مسئلہ کشمیر مذاکرات اور بات چیت سے حل ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 46 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، بھارت نے واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا۔
Comments are closed.