وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کیلئے 28 ارب روپے کے نئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 40 لاکھ غریب گھرانوں کو فوری طور پر دوہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔
وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں ریلیف پیکج کو بجٹ میں شامل کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ ریلیف پیکج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ ہے، یوٹیلیٹی اسٹور کو آٹے کا 10 کلو کا تھیلا 400 روپے میں فروخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں نے مل کر عوام کے مطالبے پر لبیک کہا اور تبدیلی کو یقینی بنایا، آئینی طریقے سے حکومت بدلی ملکی تاریخ میں پہلی بار دروازے نہیں پھلانگے گئے، اس وقت وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں مگر قوم اور اتحادیوں نے جس ذمہ داری کے لیے مجھے منتخب کیا وہ میرے لیے اعزاز ہے، ملک کو سنگین حالات سے بچانا مقصود ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، تباہی ایسی تھی کہ پہلے کبھی نہیں دیکھی، اسی وجہ سے پاکستان کو بچانے کا چلینج قبول کیا، ملک کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے انتھک محنت درکار ہوگی، عوام نے مطالبہ کیا تھا نااہل اورکرپٹ حکمران سے ہماری جان چھڑائی جائے، فسادی ذہن نے ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا۔
عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ سابقہ حکومت نے کیے تھے ہم نے نہیں، سابق حکومت جان بوجھ کر اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہے، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا، کسی ایک شخص کی ضد پر نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں سفارتی خط کی نام نہاد سازش گھڑی گئی جبکہ نیشنل سیکیورٹی نے اس دعوے اور الزام کو مسترد کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں 2 مرتبہ کہا گیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، امریکا نے بھی سازش سے متعلق خبروں کو بےبنیاد قراردیا،
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور حکومت میں پاکستان نے نمایاں ترقی کی اس شخص (عمران خان) کی وجہ سے سی پیک معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا، سابق حکومت کے پونے 4 سال میں ڈالر 189 پر پہنچ گیا اور قرض میں 20 ہزار ارب سے زائد کا اضافہ ہوا، رواں مالی سال میں بجٹ خسارے کا تخمیہ 5 ہزار 600 ارب روپے ہے۔ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اپنے سیاسی فائدے کے بجائے ملکی مفاد کو دیکھا کیونکہ پٹرولیم سبسڈی کی قومی خزانے میں گنجائش نہیں تھی۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ختم کردیا گیا ہے کیونکہ پونے چار سال میں میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی چھین لی گئی، پاکستان میں صحافت کے لیے بدترین حالات پر سابق وزیراعظم کو آمروں میں شمار کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں نے بطور قائد حزب اختلاف میثاق معیشت کی تجویز پیش کی تھی، میری میثاق معیشت کی تجویز کو حقارت سے نظر انداز کردیا گیا مگر اب میں میثاق معیشت کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کررہا ہوں، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ مشاورت میں شامل ہوکر ملک کو معاشی صورت حال سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے خارجہ محاذ پر بھی مشکلات بڑھائی گئیں اور دوست ممالک کا ناراض کردیا گیا، اب ہم دوطرفہ تعلقات کی بحالی کا آغاز کردیا ہے لیکن دہشت گردی کا فتنہ دوبارہ سر اٹھارہا ہے، صوبوں کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کی ازسر نو بحالی شروع کردی ہے۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے والے غیرقانونی اقدام کو ختم کرے، جنوبی ایشا میں پائیدار امن کو یقینی بنانا بھارت کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ شہباز شریف کا بطور وزیر اعظم یہ پہلا خطاب اور گزشتہ روز پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافے کے بعد کیا گیا۔
Comments are closed.