دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان اور بھارت کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو ممکنہ طور پر چار سے چھ ماہ میں سنائے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی الزام تراشیوں کا موثر انداز میں جواب دیا گیا، اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ بھارت ایسا ریلیف مانگ رہا ہے جو یہ عدالت نہیں دے سکتی۔
سماعت کے آغاز پر صدر عالمی عدالت انصاف نے پاکستانی ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی کا مختصر تعارف پیش کیا، جس کے بعد جسٹس تصدق جیلانی نے ایڈہاک جج کا حلف اٹھایا۔
پاکستانی وکیل خاور قریشی نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے دلائل کا جواب نہیں دیا، بلکہ غیرمتعلقہ باتوں سے عدالتی توجہ ہٹانے اور گمراہ کرنے کی کوشش کی، بھارتی وکیل نے ان کے الفاظ سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا، کسی چیز کے اضافے کی ضرورت نہیں، حقائق خود بولتے ہیں، پاکستانی وکیل کا کہنا تھا کہ دو ہزار آٹھ کے معاہدے اور کلبھوشن یادیو کے اغوا کی کہانی پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
خاور قریشی نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ یہ کیس کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ ایک جاسوس کو کیسے قونصلر رسائی دی جائے۔
بھارتی وکیل نے لاہور ہائیکورٹ بار کے ایک عہدیدار کے بیان کو پاکستان کے سرکاری الفاظ بنا کر پیش کیا، بھارت نے پہلے کہا کہ اٹھارہ بار قونصلر رسائی کیلئے رابطے بعد میں کہا کہ چالیس بار رابطہ کیا گیا۔
بھارتی عہدیداران کی تصاویر دکھانے پر وویلا مچایا گیا، اجیت دوول اگر لندن جائیں تو جیمز بانڈ کی آسامی ان کے لیے خالی ہے،
خاور قریشی نے کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا اور کہا کہ دو پاسپورٹ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جو نہایت افسوسناک ہے،
فوجی عدالتوں سے متعلق یورپی یونین کےبیان کی بھارت نے اپنے انداز میں تشریح کی، اور کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی تربیت یافتہ جج فوجی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرسکتا، حالانکہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کا ثبوت ہے۔ جب کہ کسی بھی نابالغ یا کم عمر کا فوجی عدالت میں ٹرائل نہیں ہوا۔
کلبوشن یادیو کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت چلایا گیا، دلائل کے دوران سخت زبان استعمال کی لیکن بعض اوقات اس کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا کے سب سے بڑے عدالتی فورم کے سامنے بھارتی رویہ حقائق مسخ کرنے کے مترادف تھا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارت کی ریلیف فراہمی کی استدعا مسترد کی جائے۔
خاور قریشی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر بلاجواز تنقید کی گئی، تمام پاکستانی عدالتیں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت قائم ہوئیں، قانون کے تحت ملکی سلامتی کے لئے کچھ ٹرائل منظر عام پر نہیں لائے جاسکتے۔ پاکستانی آئین کا آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کا حق فراہم کرتا ہے، بھارت نے بے بنیاد الزام تراشی کی۔ انہوں نے عالمی عدالت انصاف میں سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داران کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی، بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کے سامنے ہیں، بچوں اور خواتین سمیت دو ہزار سے زائد معصوم کشمیریوں کو پیلٹ گنز کے ذریعے بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، مقبوضہ کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں چار بھارتی فوجیوں نے تیئس کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جب کہ کورٹ آف انکوائری نے ان فوجیوں کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا۔ بھارتی عدالتی نظام میں خامیوں کی بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔
کلبھوشن یادیو کی جاسوسی سے متعلق خاطر خواہ ثبوت اور شواہد موجود ہیں، جب کہ اس کے خلاف پولیس کے پاس باقاعدہ ایف آئی آر درج ہے،بھارت اس عدالت سے ایسا ریلیف مانگ رہا ہے جو یہ نہیں دے سکتی۔ کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارت کی درخواست اور استدعا مسترد کی جائے۔
پاکستان میں کسی بھی عدالت کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کا موثر نظام موجود ہے، پاکستان کے پاس دو ہزار آٹھ کے معاہدے کے تحت قونصلر رسائی نہ دینے کی وجوہات ہیں۔
پاکستانی قانونی ٹیم کے دلائل مکمل ہونے عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو ممکنہ طور پر چار سے چھ ماہ میں سنایا جائے گا۔ صدر عالمی عدالت انصاف نے ریمارکس دیئے کہ اگر ضرورت ہوئی تو دونوں فریقین سے مزید حقائق مانگ سکتے ہیں۔فیصلے کی تاریخ کا اعلان دونوں فریقین کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
Comments are closed.