ابوظہبی: بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کی شرکت کے باوجود او آئی سی میں بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کمیشن کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت مخالف قراردادیں منظور کرلی گئیں۔
اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کی حمایت کا عزم دہرایا۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ او آئی سی اجلاس میں کشمیری عوام کی حمایت پر قرارداد منظور ہوئی، جس میں جموں و کشمیر کو پاکستان اور بھارت میں بنیادی تنازعہ قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے،
#OIC resolution on regional peace, condemns Indian violation of #Pakistan airspace & recognises #Pakistan’s right to self defence. Also appreciates PM Khan’s offer of peace to #India & goodwill return of Indian pilot.
— Dr Mohammad Faisal (@DrMFaisal) March 2, 2019
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی کی مذمت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدر آمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا، اجلاس میں فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان کی ایک اور قرارداد منظورہوئی۔جس میں بھارتی دراندازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو مدعو کرنے پر او آئی سی کے افتتاحی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جب کہ دیگر سیشنز میں دفتر خارجہ کے حکام شریک ہوئے۔
Comments are closed.