اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کر لی ۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئےبیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہے ، وزیرداخلہ شہریار آفریدی کو طلب کر لیتے ہیں۔
سماعت کے آغاز پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ خود کو شہنشاہ سمجھتے ہیں ، آج آخری موقع کے باوجود پیش نہیں ہوئے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نےوارننگ دی کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب!10 منٹ کا وقت دیتےہیں ، سیکرٹری داخلہ پیش نہ ہوئے تو توہین عدالت کا نوٹس اور وارنٹ گرفتاری جاری کر دیں گے ۔۔ وقفے کے بعد سیکرٹری داخلہ پیش ہوئے تو جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کا کیا کرنا ہے ، کیا اوورسیز پاکستانیوں کی لاشیں ہی واپس لانی ہیں ، بیرون ملک پاکستانیوں کی جیل میں ہلاکتوں کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہے ۔
جستس فیصل عرب نے کہا شاکراللہ بھارت میں 16 سال قید رہا ، اس کی لاش واپس آئی ۔ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا ہم قانون تبدیل کر رہے ہیں ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نےریمارکس دیئےقانون نہیں سیکرٹری داخلہ کو تبدیل کرنےکی ضرورت ہے ۔ عدالت نے بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔
Comments are closed.