عالمی عدالتوں میں پاکستانی مصنوعات کے تحفظ میں ناکامی کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت میں انکشاف ہواہے کہ جیوگرافیکل انڈی کیشن پروٹیکشن لاء گیارہ سال سے زیر التواہے قانون کی عدم موجودگی کے باعث عالمی عدالتوں میں پاکستانی مصنوعات کا تحفظ نہیں کیاجاسکا، کمیٹی کی کپاس کا محمکہ فوڈ کے بجائے ٹیکسٹائل ڈویژن کو دینے کی سفارش کردی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ادارہ حقوق دانش مجیب احمدخان نے بتایاکہ ہمارے پاس اپنی مصنوعات کے دفاع کے لیے کوئی قانون نہیں ہے جیوگرافیکل انڈیکیشن پروٹیکشن لاء التوا ہےقانون کی عدم موجودگی میں کچھ نہیں کرسکتے۔

سینیٹر نعمان وزیرنے کہاکہ اس معاملے کو ہر کمیٹی کے اجلاس میں رکھا جائے چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہاکہ یہ قانون اہم ہے ہر اجلاس میں پانچ منٹ اس قانون کو دیئے جائیں گے حکام نے بتایاکہ ملک میں پیٹنٹ رجسٹریشن کا دورانیہ 30ماہ ہے جبکہ ٹریڈ مارک رجسٹریشن کا دورانیہ چھ ماہ ہے۔

چیئرمین ادارہ حقوق دانش نے بتایاکہ اب کاپی رائٹس اور پیٹنٹ کی خلاف ورزیوں کے 500 کیسز پکڑے جاچکے ہیں کمیٹی نے کاپی رائٹس، پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے خلاف اب تک کی کاروائیوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

عالمی عدالتوں میں پیٹنٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف ادارہ حقوق دانش کی اپیلوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں ٹیکسٹائل ڈویژن کے حکام نے بتایاکہ دیگر ملکوں نے بی ٹی کاٹن آنے پر قانون سازی کی لیکن ہمارے ہاں پلانٹ بریڈرز رائٹ ایکٹ توبنا دیاگیا لیکن رجسٹری قائم نہیں ہوئی کپاس فوڈ آئٹم نہیں لیکن کپاس کا محکمہ وزارت غذائی تحفظ کو دے دیا گیا۔

Comments are closed.