کاروباری برادری نے منی بجٹ کو توقعات کے منافی قرار دے دیا

اسلام آباد: پالیسی ادارہ برائے پائیدارترقی (ایس ڈی پی آی) کے زیر اہتمام فنانس بل 2018-19 میں ترامیم پر مباحثہ کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مجموئی طور پر فنانس بل 2018-19 میں جو ترامیم پیش کی گئی ہیں و ہ توقعات کے منافی اور روایتی ہیں۔ حکومت نے اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لئے ایک موقع کھو دیا۔

”پاکستان تحریک انصاف نے اب تک جو اقدامات لیے اس سے ٹیکس نا دہندگان کی حوصلہ افزائی جبکہ ٹیکس دہندگان کو حوصلہ شکنی ہوئی ۔ معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے ٹیکس نا دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا”۔

سابق سینیٹر اور رہنما پاکستان پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیش کردہ منی بجٹ مایوس کن ہے،کیونکہ یہ بجٹ بدعنوان مافیا کی حمایت کرتا ہے۔

”سب سے بڑی بدعنوانی زمین کی خریدو فروخت میں ہے اور تحریک انصاف نے ٹیکس نادہندگان کو زمین اور گاڑیاں خریدنے کی اجازت دینے سے بدعنوانی کو مستحکم کیا ہے”۔

جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آی ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ حکومت ٹیکس نادہندگان کو اپنی جائیداد اور گاڑیاں خریدنے کے لئے اجازت دیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے دی گئی ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ ایک محدود مدت کے لیے ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے سائز کو کم کرنے کی بجائے، حکومت وزارتوں کی تعداد کم کرے اور منسلک محکموں کو ضم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو ٹیکس کوڈ میں موجودہ خرابیوں کو بھی درست کرنا ہو گا ، جیسے 60 سے زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور 50 سے زائد ان ڈاریکٹ ٹیکس میں توازن کانا ہو گا۔

اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سینیٹر نعمان وزیرخٹک نے کہا کہ جب تحریک انصاف حکومت میں آئی تو معیشت شدید بحران کا شکار تھی۔ حکومت نے درآمدی بل کم کرنے کے لئے صرف لگژری اشیاء کی درآمد پر ٹیکس کی شرح کو بڑھایا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتصادی بحران کا تجزیہ کرنے اور معا شی مسائل سے نمٹنے کے لئے کم از کم 3 سے 4 ماہ درکار ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ترقی کی شرح خطے کے ممالک سے بہت پیچے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 10 فی صد ترقی کی شرح کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کو معیشت اور تجارت کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔

سابق صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈاکٹر شمائل داؤد آرائیں کا کہنا تھا کہ حکومت نے توقعات کے برعکس ٹیکس دہندگان کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ حکومت نے منی بجٹ میں ٹیکس نا دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لے آنے کے لیے موقع گنوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ کی کوئی سمت نہیں دکھ رہی ۔

سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شابان خالد کا کہنا تھا کہ منی بجٹ بھی گزشتہ بجٹ کی طرح کا ایک بجٹ ہے، جو کہ ہماری توقعات کے خلاف ہے۔ اگرچہ حکومت نے تنخواہ کی کلاس کے لئے ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن ٹیکس بیس میں اضافہ نہیں ہوا۔

صدرراولپنڈی اسلام آباد ٹیکس بار ایسوسی ایشن سید توقیر بخاری کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے لئے کوئی حوصلہ افزائی یا سہولت نہیں دی گئی۔

Comments are closed.