اسلام آباد: پارک لین کمپنی اور جعلی اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے والد آصف علی زرداری کے ہمراہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو گئے۔
آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جعلی اکاونٹس کیس میں نیب کے سامنے اپنے ابتدائی بیانات ریکارڈ کروا دئیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کا مقدمات سے کوئی تعلق نہیں، کبھی کرپشن کی حمایت نہیں کی، نیب حقائق کو مد نظر رکھے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو تفصیلی جواب کے لیے 54، 54 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھی تھما دیا گیا۔
قومی احتساب بیورو کے سولہ اراکین پرمشتمل دو ٹیموں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری سے الگ الگ تفتیش کی۔ دو گھنٹے تک کی پوچھ گچھ میں بلاول بھٹو زرداری نے جعلی اکاونٹس سے لا تعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ پارک لین کمپنی قائم ہوئی تو ان کی عمر ایک سال تھی، مقدمات میں نامزد کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا ہے مقدمات سے ان کاکوئی تعلق نہیں، کبھی کرپشن کی حمایت نہیں کی،نیب حقائق کو مد نظر رکھے۔امید ہے نیب دوبارہ نہیں بلائے گا۔
دوسری جانب آصف علی زرداری نے بھی جعلی اکاؤنٹس کیس میں ابتدائی بیان قلمبندکروا دیا۔ آصف زرداری نے کہاکہ پارک لین کمپنی کے قیام کے وقت حصے دار نہیں تھا۔ 2009 میں کمپنی کاحصہ دار بنا جسکے بعد سے تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ موجود ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ابتدائی بیان کے بعد تفصیلی جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگی جس کے بعد آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو پارک لین کمپنی سمیت دیگر دو مقدمات میں بھی سوالنامے دیئے گئے۔ دونوں رہنماوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تینوں مقدمات میں جواب دو ہفتوں میں جمع کروائے جائیں۔
نیب ذرائع کے مطا بق آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے 54، 54 سوالات کے جواب مانگے گئے ہیں۔ نیب کی پانچ رکنی ٹیم نے بلاول بھٹو جبکہ 11 رکنی ٹیم نے آصف زرداری سے پوچھ گچھ کی۔دونوں رہنماوں کے بیانات کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے نیب کو تفتیش میں ہرممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب عرفان منگی کی سربراہی میں نیب راولپنڈی کی ٹیم نے دو گھنٹے تک آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے پوچھ گچھ کی۔ پیپلز پارٹی کے قائدین سے فی الحال 3 کیسز سے متعلق سوالات پوچھے گئے،
نیب ٹیم نے تینوں مقدمات کے تحریری سوالنامے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو فراہم کیے جن کے 10 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی دوبارہ طلبی کا فیصلہ جوابات کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق نیب کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام جاری رکھے گا۔
قبل ازیں پیپلز پارٹی کی قیادت کی پیشی کے موقع پر نیب دفتر کے باہر اور ریڈ زون میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، نیب اولڈ ہیڈکوارٹرز کی عمارت کے اندر اور چھت پر پولیس کمانڈوز تعینات رہے۔ جب کہ نادرا چوک کے مقام پر کارکنوں کو روکنے کی کوشش پر پولیس اور پیپلز پارٹی کے جیالوں میں ہاتھا پائی ہوئی، جس کے دوران 3 پولیس اہلکار جبکہ 6 پی پی کارکنان زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس نے سابق وفاقی وزیر میر باز کھیتران اور پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکنان کو حراست میں لے کر تھانہ مارگلہ منتقل کر دیا ہے۔
Comments are closed.