اسلام آباد: بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسند عوام کو سزا دینے کے لیے ریاستی دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر ریاستی دہشت گردی کی خوفناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ مودی حکومت کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے ہر طرح کا جبر اور ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ بھارت کی ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں 5 اگست 2019 سے اپنی ریاستی دہشت گردی کو تیز ترکیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جعلی مقابلے، ماورائے عدالت قتل، اغوا اور تشدد ایک معمول بن گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے اورصرف گزشتہ چار مہینوں کے دوران بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں تین نوجوانوں سمیت 21کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتی افواج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم از کم 50 کشمیری زخمی بھی ہو ئے۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی این آئی اے اور ریاستی ادارے ایس آئی اے نے حریت رہنما بلال احمد صدیقی ، متعددسیاسی کارکنوں، نوجوانوں، طلبااور صحافی عرفان معراج سمیت 400سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ ان میں سے متعدد افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیو ں کی روک تھام کے قانون اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔بھارتی فوجیوں نے محاصرے اور تلاشیوں کی 860 پرتشددکارروائیاں بھی کیں ۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ اپریل میں مزیدتین معصوم کشمیریوں کو شہید اور کم از کم 94 کو گرفتار کیا ۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد سے 18,905 سے زائد کشمیری نوجوانوں،حریت رہنمائوں،انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کرکے بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کیا گیا، 2356 کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی فوجیوں کی جانب سے قتل وغارت کا مقصد کشمیری عوام کو خوفزدہ کرکے عظیم اور لازوال قربانیوں سے مزین تحریک آزادی سے دستبردار کرانا ہے لیکن ان مظالم سے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو مزید تقویت ملتی ہے۔

چار ہزار سے زائد حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، طلبائ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مسلسل بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند رکھا گیاہے جن میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال،فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، عبدالصمد انقلابی، فیاض احمد،امیر جماعت اسلامی ڈاکٹرعبدالحمید فیاض، عبدالرشید داودی، مشتاق احمد ویری، عبدالمجید ڈار المدنی ، محمد شریف سرتاج، نور محمد فیاض، محمد یوسف فلاحی، فیاض احمد، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی، ظفر اکبر بٹ،انجینئر رشید اور دو درجن کے قریب کشمیری خواتین کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، عرفان مجید اور فہد شاہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق5 اگست 2019سے سرینگر میں اپنے گھرمیں مسلسل نظربند ہیں۔ ان نظربندوں کوبدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجارہا ہے،جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں تحریک آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔بھارت اور اس کے حواری اس طرح کے حربے پہلے بھی ازما چکے ہیں مگر ذلت و رسوائی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوسکا،آج بھی بھارتی حکمرانوں کے حصے میں ذلت ہی آرہی ہے۔بھارتی حکمرانوں نے تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے اور اس تحریک سے وابستہ اہل کشمیر کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی تمام حدیں پھلانگی ہیں مگر یہ تحریک حالات کے تمام تر جبر کے باوجودپہلے بھی جاری رہی اور آج بھی جاری وساری ہے۔
20اپریل کو بھٹہ دوڑیاں پونچھ میں ایک فوجی گاڑی پر حملے میں 5بھارتی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو اتھا۔اس کے انتقام میں بھارتی فوجیوں نے نہ صرف پونچھ بلکہ راجوری اور ریاسی اضلاع میں عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔پونچھ میں باالخصوص گھر گھر چھاپوں اورتلاشیوں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ،مکینوں پر تشدد اور قیمتی سامان لوٹا جارہا ہے،اب تک دوسو سے زائد افراد سے پوچھ گچھ اور متعدد خواتین سمیت 50 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔جبکہ مختار حسین شاہ کو دوران حراست شہید کیا گیا۔30اپریل کو بھارتی فوجیوں نے بدنام زمانہ سپیشل پولیس آپریشن گروپ کے ساتھ مل کرضلع پونچھ کے بھٹنڈی علاقے سے مولوی منظور احمدکو ایک مدرسے سے گرفتار کرلیا،بھارتی سفاکوں نے مولوی منظور احمد پر اس تشدد کیا کہ وہ جان کی بازی ہی ہار گیا۔ اگرچہ بھارتی فوجیوںنے اس جرم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور میڈیا کے ساتھ خبریں شیئر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں تازہ کارروائیاں بھارتی پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور بھارتی فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی کے دورہ پونچھ کے دوران حق خودارادیت کی حمایت کرنے والے لوگوں کو قتل یا گرفتار کرنے کا حکم دینے کے ایک دن بعد شروع ہوئیں۔اس سلسلے میں ایک بھارتی صحافی منیش شرما کی ایک لیک آڈیو کال جس میں وہ اپنے ایک ماتحت سے مختیار حسین شاہ کے قتل کے بارے میں حقائق کو مسخ کرنے کے لیے کہتے ہوئے پایا گیا تھا جو کہ 27 اپریل کو بھارتی فوجیوں کی حراست میں انتقال کر گیا تھا، نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مکمل طور پر بے نقاب کیا ہے۔ آڈیو لیک میں امر اجالا نامی اخبارکے منیش شرما کو سامبا سے بلکار سنگھ نامی نمائندے کو مختار حسین شاہ کے واقعے کو چھپانے کے لیے ایک خبر درج کرنے کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

مختیار حسین شاہ کو 21 اپریل کو بھارتی فوجیوں اورپولیس نے پونچھ حملے سے تعلق کے شبہ میں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا ، انہیں کچھ دیر کے لیے رہا کر دیا گیا اور پھر 26 اپریل کو تفتیش کے لیے دوباہ طلب کیا گیا، تاہم وہ پراسرار حالات میں چل بسے۔مینڈھر علاقہ کے مقامی لوگوں نے ان کے قتل پر احتجاجا سڑک بلاک کر دی۔بھارت میں قائم ویب پورٹل دی وائر نے لکھا کہ مختیار حسین شاہ کے قتل کو چھپانے کے منصوبے کو بے نقاب کرنا پاکستانی خفیہ ایجنسی کی بڑی کامیابی ہے۔ دی وائرنے اعتراف کیا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی سرزمین پر دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ دی وائر کے مطابق پونچھ حملہ کیس میں مشتبہ شخص کے طور پر نامزد ہونے کے بعد مرنے والے 48 سالہ مختار حسین شاہ کے اہل خانہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے قائم کی گئی مجسٹریل تحقیقات کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مختیار حسین شاہ کی موت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ مجسٹریل انکوائری کا حکم “تضادات سے بھراہے۔قابض حکام سچ کو چھپانے کی کوشش میں پہلے کی طرح مصروف عمل ہے۔ مختیار شاہ کے بھائی رفاقت حسین شاہ نے کہا کہ یہ انصاف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔”رفاقت نے دعوی کیا کہ مختیار کی کمر اور رانوں پر” چوٹوں کے نشان” اور “کالے نشانات تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگر اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بھارتی تفتیش کاروں کو حقائق کو عوام کے سامنے لانے چاہیں۔ وہ کیوں سچ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟۔پونچھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت باسکوترا نے اس وقت کال بند کر دی جب دی وائر نے اس معاملے پر ان سے رائے طلب کی، اسی طرح ڈپٹی کمشنر پونچھ اندر جیت سے دی وائر کی جانب سے رابطہ کرنے پر کہا گیاکہ یہ معاملہ اب ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اس معاملے کے وقت ضلع سے باہر منتقل تھے۔مختیار کے فون پر ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ بے ساختہ بول رہا ہے اور کئی بار رو رہا ہے جب کہ اس نے الزام لگایا ہے کہ حملے کے بعد اسے، اس کے اہل خانہ اور پڑوسیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بھارت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گروپ 20 اجلاس سے ہفتوں قبل سرینگر،وادی کشمیر کے دیگر علاقوں اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی قصبوں اور دیہات میں بڑے پیمانے پر محاصروں ، تلاشی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کشمیری عوام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوںکو بتایا کہ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار رات کے وقت ان کے گھروں میں گھس کر مردوں، خواتین اور بچوں کو قطار میں کھڑا کرتے ہیں اور نوجوانوں کے بارے میں تفصیلات پوچھتے ہیں۔ کشمیری عوام نے گروپ20کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مودی حکومت کے جال میں نہ پھنسیں جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کیلئے ظالمانہ فوجی کارروائیوں سے کشمیری عوام کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم ہر گزرتے دن کے ساتھ انتہائوں کو چھو رہے ہیں۔فسطائی مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیرمیں ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔تاکہ آج تک دی جانے والی لاکھوں قربانیوں کو نہ صرف پائیہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے بلکہ ان قربانیوں کے ساتھ وفا بھی کی جائے،جو حق خودارادیت کے حصول کیلئے دی جاچکی ہیں۔ان قربانیوں کی حفاظت کرنا اہل کشمیر پر فرض اور قرض ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم پر دنیا کو بھارت کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف ورزیوں پر بھارت کو سزا ملنی چاہیے،جو ان ممالک کیلئے مثال بن جائے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
Comments are closed.