عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے،شبیر احمد شاہ

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئرقائداور چیئرمین جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی شبیر احمد شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری سے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے پیغام میں نظر بند رہنما نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گولیاں چلانے والے بھارتی فوجیوں کی جانب سے بے گناہ کشمیری عوام کا خون بہایا جا رہا ہے۔”بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں، محاصروں اور پرتشدد تلاشی کارروائیوں کے دوران معصوم شہریوں خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ منظم نسل کشی کے مترادف ہے۔بھارت کی آبادکارنوآبادیاتی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر میں انتخابی حد بندی کو دوبارہ ترتیب دینے جیسے کشمیر مخالف قوانین کے ایک تسلسل کے نفاذ نے کشمیری عوام میں عدم تحفظ کا خوف پیدا کر دیا ہے”۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کا مقصد خطے کی آبادی کو تبدیل کرنا اور مقامی باشندوں کو ان کے وسائل، ملازمتوں، شناخت، ثقافت، زمین اور سب سے بڑھ کر ان کے حق خودارادیت سے محروم کرنا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ سے کم کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ان قوانین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جناب شاہ نے بااثر عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقامی آبادی کی جگہ آبادکاروں کی ایک نئی سوسائٹی کے ساتھ بھارت کی آبادکاری کی استعماری مہم کا موثر نوٹس لیں۔بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 میں غیر قانونی اورغیر آئینی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب شاہ نے کہا، “یہ اقدام کشمیری عوام کے خلاف ان کی سیاسی، ثقافتی اور قومی شناخت کو مٹانے کی ایک گہری سازش تھی۔جناب شاہ نے مزید کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے خطے کو ایک بے یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں آزادی صحافت اور اظہار رائے کا گلہ گھونٹنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “سیاسی کارکنوں، صحافیوں،انسانی حقوق کے گروپوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو زبردستی، ڈرانا اور ہراساں کرنا مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کا خاصہ ہے”۔

انہوں نے عالمی رہنماوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے بھارتی حکومت پر اثر انداز ہوں جو خطے میں خونریزی’ تشدد کی بنیادی وجہ اور نتیجہ ہے۔دریں اثنا جناب شاہ نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے کے خلاف احتجاج کے طور پر 27 اکتوبر کو مکمل ہڑتال کریں۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک دن ہے۔جناب شاہ نے کہا کہ “یہ وہ دن ہے جب بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر اس کے عوام کی خواہشات اور مرضی کے خلاف غاصبانہ قبضہ کیا”۔غیر ملکی قبضے کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جناب شاہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اس اہم مقصد کو حاصل کر لیں گے جس کیلئے انہوں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔جناب شاہ نے اہل کشمیر سے اپیل ہے کہ وہ 27 اکتوبر کو یوم نکبہ کے طور پر منائیں تاکہ اہل فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے۔

Comments are closed.