کشمیری عوام کے لیے بھارتی عدلیہ کا فیصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا، سید صلاح الدین

مظفرآباد:ہندو توا بھارتی عدلیہ کاآرٹیکل 370 اور 35اےکے حوالے سے فیصلہ،بھارت نواز جماعتوں کیلئے چشم کشا ہے۔حریت پسند کشمیری عوام اور آزادی پسند تنظیموں کیلئے یہ فیصلہ کوئی اہمیت اور معنی نہیں رکھتا۔ان خیالات کا اظہارمتحدہ جہاد کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت سید صلاح الدین احمد نے کی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اہل کشمیر جابرانہ بھارتی قبضے کے خلاف ایک تاریخ ساز جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک مسلمہ متنازعہ مسئلہ ہے۔ اس کی متنازعہ حیثیت سے متعلق اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کی بیسیوں قراردادیں موجود ہیں۔خود بھارتی قیادت بھی جن میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو شامل ہیں نے ان قرادادوں پر عملدر آمداور کشمیری عوام کی رائے کا احترام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن ایفائے وعدہ کرنے کے بجائے جموں و کشمیر کی ریاست پر غاصبانہ اور جابرانہ قبضے کو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط بنانے کی مذمو کوشیش کیں،جس کی کشمیری عوام نے ہمیشہ مزاحمت کی اور آج بھی کررہے ہیں۔ قائدین متحدہ جہاد کونسل نے کہا کہ بھارتی عدلیہ بھارتی حکمرانوں کے ہندوتا ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اسی ہندتوا عدالت نے بے گناہ اور معصوم ڈاکٹر افضل گورو کو بھارتی عوام کے اجتماعی ضمیرکو تسکین پہنچانے کیلئے سزا موت دی۔اسی طرح 2010میں مذکورہ ہندوتوا عدالت سے معصوم کشمیری بچوں،بزرگوں اور خواتین پر پیلٹ حملوں کو قانونی اور جائز قرار دلوانا کشمیری عوام بھولے نہیں ہیں۔اجلاس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارت نواز جماعتوں کیلئے چشم کشا ہے جو ہندتوا بھارتی عدلیہ سے یہ آس لگائے بیٹھی تھیں کہ وہ عدل و انصاف کا اصول مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بہتر فیصلہ دے گی۔بھارت نواز جماعتوں کے رہنماوں کو اب چاہیے کہ وہ حریت پسند عوام کی جدوجہد آزادی میں شامل ہوجائیں اور یہ وہ جدوجہد ہی ہوگی جو بھارت کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرسکتی ہے۔

 اجلاس میں واضح کیا گیا کہ بھارتی قیادت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کبھی پرامن ذرایع سے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف جائیگی،احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ ہندوتوابھارتی عدالتی فیصلے ہماری جدوجہد پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے بلکہ ایسے فیصلوں سے تحریک آزادی کشمیر کی حقانیت مزید موثر ثابت ہوگی اور یہ حقیقت سب کی سمجھ میں واضح طور پر آئیگی کہ ایک مضبوط اور بھرپور مزاحمت ہی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ناگزیر ہے۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ دنوں میں جام شہادت نوش کرنے والوںکو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی طالع آزما کو تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور حصول منزل تک پوری قوت سے جدوجہد جاری رہے گی

Comments are closed.