جہانگیرخان ترین سیاست سے آؤٹ۔۔۔ نااہلی کیخلاف نظرثانی اپیل مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین نااہلی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے، عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی نااہلی برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرسٹ کے اصل مالکان جہانگیرترین اور انکی اہلیہ ہیں۔ چیف جسٹس کہتے ہیں یہ کیس ازسر نو نہیں سن سکتے، جہانگیر ترین پیسہ چھپانا چاہتے ہیں، کیا عوامی لیڈر ایسے ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جہانگیرترین نااہلی کیخلاف نظرثانی اپیل پر سماعت کی۔ جہانگیر ترین کے وکیل بشیر مہمند نے کہا کہ شائنی ویو کے ڈائریکٹر کی لسٹ پیش کروں گا، نئی دستاویزات لائے ہیں شائنی ویو کمپنی جہانگیر ترین نے نہیں بنائی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار بڑے سیاسی رہنما ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جہانگیر ترین سے کہا گیا اپنے دفاع میں دستاویزات لائیں لیکن وہ نہیں لائے،انہوں نے پیسے بچانے کے لیے باہر کمپنی بنائی، پراپرٹی انہوں نے خریدی، اور بچوں کے نام پر چھپا رہے ہیں۔ پیسے ٹرسٹ میں لگانے کے جہانگیرترین کا موقف تسلیم نہیں کریںگے

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین صرف لوگوں سے پیسہ چھپانا چاہتے ہیں، کیا عوامی لیڈر ایسے ہوتے ہیں؟ جائیداد انہوں نے بنائی رہتے بھی وہ ہیں اور کہتے ہیں یہ جائیداد بچوں کی ہے، سارا فراڈ ہے یہ قیادت کا معیار ہے،اس کیس کو ازسر نو نہیں سن سکتے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ برطانوی عدالت میں ثابت ہوا جہانگیر ترین اوراہلیہ بینیفشل مالکان ہیں، پاکستان سے بہت بڑی رقم باہر گئی، جو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر نہیں کی۔ ایک عدالت کے لیے تہہ در تہہ چھپائے گئے پیسے پر رائے دینا مشکل کام ہے، لیکن جب آپ عوامی عہدے پر آگئے تو آپ کو بتانا ہوگا۔ عدال کو صرف جہانگیرترین اور جائیداد میں تعلق کی وضاحت چاہیے۔ عدالت نے جہانگیرترین کوبات کرنے سے روک دیا۔

Comments are closed.