بچوں، حاملہ خواتین کے دانتوں میں پارے کی بھرائی پر پابندی عائد

اسلام آباد: وفاقی وزارت صحت نے پندرہ سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے دانتوں میں بھرائی کے لئے پارے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سینئیرایڈوائزرڈاکٹر محمود اے خواجہ کی مفصل تحقیق اور اس پر بین الاقوامی سطح پر پیش کئے جانے والے مقالاجات و رپورٹس متعلقہ اداروں کو فراہم کی گئی جس کی روشنی میں وزارت صحت نے دانتوں میں پارے کی بھرائی پر پابندی عائد کی ہے۔

انسانی صحت اورمرکری سے پاک ماحول کے لئے عالمی معاہدہ ”میناماٹا کنونشن” کی پاکستان رواں برس توثیق کرے گا۔ واضح رہے کہ اس معاہدہ کی 94 سے زائد ممالک توثیق کر چکے ہیں۔  یورپی یونین دانتوں میں بھرائی کے لئے پارے کے آمیزے کے استعمال پر پہلے سے پابندی عائد کر چکی ہے۔ جس میں پندرہ سال سے کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق پارہ تیسری انتہائی مضرصحت اشیاء میں شامل ہے جو کہ انسانی زندگی کے لئے انتہائی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ وزارت قومی صحت کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے حوالے سے ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر محمود اے خواجہ نے کہا ہے کہ یہ حکومت کا احسن قدم ہے جسے بہت پہلے اٹھائے جانے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عملدرآمد کا طریقہ کار واضح کیا جائے اور شفافیت کے عمل کو بھی یقینی بنانا ہوگا جبکہ اس حوالے سے کارکردگی کا جائزہ پارلیمانی سطح پرلیےکی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کےعوام کی صحت کے حق کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔

Comments are closed.